IQNA

سیرت علوی
حضرت على عليه السلام فرماتے ہیں:
لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِىَّ مَهْمَزٌ وَ لالِقائلٍ فِىَّ مَغْمَزٌ، الَـذَّلـيلُ عِنْدى عَـزيزٌ حَتّى اخُذَ الْحَـقَّ لَـهُ، وَ الْقَوِىُّ عِنْدى ضَعيفٌ حَتّى اخُذَ الْحَـقَّ مِنْهُ. رَضينا عَنِ اللّه ِ قَـضاءَهُ وَ سَلَّمْنا لِلّه أَمْـرَهُ.
ذلیل ترین شخص (اگراس پر ظلم ہوا ہو) میرے نزدیک عزیز ترین ہے تاکہ اسکا حق واپس لوں اور طاقتور ترین (اگر اس نے ظم کیا ہو) میرے نزدیک ناتواں ہے تاکہ اس سے دوسروں کا حق وصول کروں. ہم پورے وجود کے ساتھ قضای الھی پر خوش ہیں اور اسکے فرمان پر سراپا تسلیم .
نهج البلاغة، خطبه : 37

امیر المؤمنین علی علیه السلام؛  حق کے حامی