IQNA

9:28 - May 13, 2019
خبر کا کوڈ: 3506114
بین الاقوامی گروپ- سری لنکا میں مشتعل افراد نے دارالحکومت کولمبو کے قریبی علاقے میں واقع میں مسجد پر حملہ کردیا جس کے بعد پولیس نے ایک مرتبہ پھر کرفیو نافذ کردیا۔

ایکنا نیوز- ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس ترجمان رووان گناسیکارا نے بتایا کہ دارالحکومت کولمبو کے شمال سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع رہائشی علاقے چیلاؤ میں مشتعل ہجوم نے مسجد پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے کاروباری مراکز کو بھی نشانہ بنایا۔

کیتولک اکثریتی علاقے چیلاؤ میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک رہائشی نے غلط فہمی کے باعث فیس بک پوسٹ کو مسیحی افراد خلاف خطرہ سمجھا۔

 

پولیس ترجمان نے کہا کہ تبصرہ کرنے والے مسلمان شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کرفیو آج ( پیر کی) صبح ہٹایا جائے گا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر علاقوں تک کشیدگی پھیلنے سے روکنے کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔

حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں پیش آئی جب کیتھولک گرجا گھروں نے 21 اپریل کو 3 گرجا گھروں اور 3 ہوٹلز میں ہونے والے دھماکوں میں 258 افراد کی ہلاکت کے بعد اتوار کو عوامی اجتماع کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔

حملوں کا الزام مقامی تنظیم پر عائد کیا گیا تھا جس نے داعش کے رہنما ابو بکر البغدادی سے الحاق قائم کیا تھا۔

گزشتہ روز کولمبو کے رہائشی علاقے میں خود کار رائفل سے لیس فوجی سینٹ تھریسا چرچ کی نگرانی پر مامور تھے جبکہ ملک میں جاری کارروائیوں کے تحت گرجا گھر کے اراکین کی تلاشی بھی لی گئی۔

حکام کی جانب سے نافذ کی گئی سخت سیکیورٹی کے باعث کسی گاڑی کو کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کار پارکنگ خالی تھی۔

سری لنکا میں ہولناک بم دھماکوں کے فورا بعد تمام گرجا گھروں نے معمول کی رسومات منسوخ کردی تھیں لیکن کولمبو کارڈینل کے آرچ بشپ مالکولم رنجیت نے 4 روز قبل ں اتوار سے اجتماع کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔

بدھ مت اکثریتی ملک سری لنکا کی 2 کروڑ 10 لاکھ آبادی کو 10 فیصد حصہ مسلمانوں پر اور 7.6 فیصد مسیحی افراد پر مشتمل ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: