IQNA

16:51 - May 19, 2019
خبر کا کوڈ: 3506138
بین الاقوامی گروپ-چاند منگل 4 جون کو نظر آنے کا قوی امکان موجود ہے جس کے باعث عیدالفطر ممکنہ طور پر بدھ 5 جون کو ہوگی۔

ایکنا نیوز- جنگ نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلانیٹری ایسٹروفزکس کے سابق ڈائریکٹر اور معروف فلکیاتی سائنسدان پروفیسرڈاکٹرشاہد قریشی کے مطابق شوال کا چاند منگل 4 جون کو نظر آنے کا قوی امکان موجود ہے جس کے باعث عیدالفطر ممکنہ طور پر بدھ 5 جون کو ہوگی۔

پروفیسرڈاکٹرشاہد قریشی کے مطابق شوال کے چاند کی پیدائش پیر 3جون بمطابق28رمضان المبارک کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر3بج کر2منٹ پر ہوگی اس روز3جون کو کراچی میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمرمحض4گھنٹے اور16منٹ ہوگی اورچاند کراچی کے افق پرغروب آفتاب کے ایک منٹ کے اندر ہی ڈوب جائے گا۔

کراچی یونی ورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلانیٹری ایسٹروفزکس کے سابق ڈائریکٹرنے بتایا کہ کراچی میں چاند کی رویت ممکن نہیں، تاہم 4جون ، 29رمضان المبارک کوعید الفطر کا چاند نظرآنے کاقوی امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ غروب آفتاب کے وقت اس کی افق سے بلندی ایک ڈگری ہوگی جبکہ پشاور میں 3 جون بمطابق28رمضان المبارک کو غروب آفتاب کے وقت چاندکی عمر 4گھنٹے اور19منٹ ہوگی اوراس روز3جون کوپشاورمیں چاند غروب آفتاب سے2منٹ اور 16سیکنڈ قبل ہی ڈوب جائے گا اور غروب آفتاب کے قریبی افق سے نیچے ہوگا ان حالات میں ہلال کی رویت ناممکن ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ سائنسی بنیادوں پر چاندکی رویت کے لیے یہ لازمی ہے کہ چاند غروب آفتاب کے بعد غروب ہواورافق پراس کی سطح کئی ڈگری بلند ہو۔

مزیدبراں 4جون بمطابق 29رمضان کوکراچی میں غروب آفتاب کے وقت چاندکی عمر28گھنٹے اور16منٹ ہوگی اورچاندغروب آفتاب کے ایک گھنٹے بعدتک افق پر موجودرہے گااس روزچاند کی افق پر بلندی 12ڈگری تک ہوگی جبکہ4جون کو پشاور میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر28گھنٹے اور18منٹ ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ چاند غروب آفتاب کے ایک گھنٹے بعدتک افق پر موجودرہے گا اور اس کی افق پر بلندی11ڈگری سے بھی زائد ہوگی لہٰذا پشاور سمیت پورے پاکستان میں 4جون کو ہی چاند کی رویت ممکن ہے کیونکہ اس روز چاند غروب آفتاب سے قبل غروب ہونے کے بجائے اس کے بعد بھی افق پرموجودرہے گا اور 29رمضان کے بعد 5 جون کو ہی یکم شوال ہوگی۔

ڈاکٹرشاہد قریشی کے مطابق قمری ماہ کی ہر29تاریخ کوکائنات کو سائنسی بنیادوں پر 3 ریجنز(اے ، بی اور سی) میں تقسیم کیاجاتاہے پہلا حصہ وہ جہاں چاند نظرآنے کے امکانات حتمی ہوتے ہیں دوسراوہ حصہ جہاں چاندکی رویت ہوبھی سکتی ہے اورنہیں بھی ہوسکتی جبکہ تیسراوہ حصہ ہوتاہے جہاں چاندقمری ماہ کی29تاریخ کوکسی صورت نظرنہیں آسکتاتاہم رمضان کی29تاریخ کوپاکستان کا افق کائنات کے اس پہلے حصے میں ہوگا جہاں چاند نظر آنے کے غالب امکانات موجود ہیں۔

یادرہے کہ 5 مئی2019 کو رمضان کے چاند کے موقع پر پاکستان دنیاکے تیسرے ریجن میں تھا جہاں 29شعبان کوچاند کی رویت ممکن نہیں تھی۔

ماہرفلکیات ڈاکٹرشاہد قریشی کے تحقیق کے مطابق اگرچاند اپنی پیدائش کے چندگھنٹے بعد سورج سے انتہائی نزدیک ہوگا تو وہ سورچ کی تیز چمک اورشام کی دھندلاہٹ میں ہوگا چاند پتلا ہوگا جس کے سبب اس کی رویت سورج کی چمک کے سبب انتہائی مشکل ہوتی ہے تاہم اگرچاند کافی روشن اور وسیع یا

چوڑا ہو تو اس کامطلب اس کافاصلہ سورج سے ایک ضروری حد تک زیادہ ہوگا اس صورت میں چاندکی رویت کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔

واضح رہے کہ نئے چاند کی پیدائش سے مراد وہ لمحہ یاوقت ہے جب ہمارے آسمان پر سورج اورچاند کی پوزیشن کے مابین مشرق اورمغرب کاکوئی فرق موجودنہیں رہتابلکہ چاندسورج کے مقابل آجاتا ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: