IQNA

9:24 - July 12, 2019
خبر کا کوڈ: 3506352
بین الاقوامی گروپ: صوفی محمد کے انتقال کی تصدیق انکے بیٹے نے بھی کر دی ہے۔ صوفی محمد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ مولوی فضل اللہ کے سسر ہیں۔ مولانا صوفی محمد 1933ء کو لوئر دیر کے علاقے میدان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دینی تعلیم صوابی میں واقع پنج پیر کے ایک مدرسے سے حاصل کی۔ 80 کی دہائی میں مولانا صوفی محمد جماعت اسلامی کے سرگرم رکن رہے۔

ایکنا نیوز- اسلام ٹائمز۔ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد انتقال کرگئے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد انتقال کرگئے ہیں۔ صوفی محمد کے انتقال کی تصدیق ان کے بیٹے نے بھی کر دی ہے۔ صوفی محمد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ مولوی فضل اللہ کے سسر ہیں۔ مولانا صوفی محمد 1933ء کو لوئر دیر کے علاقے میدان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دینی تعلیم صوابی میں واقع پنج پیر کے ایک مدرسے سے حاصل کی۔ 80 کی دہائی میں مولانا صوفی محمد جماعت اسلامی کے سرگرم رکن رہے، بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ لیا۔ 90 کی دہائی میں انہوں نے مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نفاذ کی تحریک شروع کی اور جماعت اسلامی سے علیحدہ ہوکر تحریک نفاذ شریعت محمدی کی بنیاد رکھی۔

1994ء میں ان کی تحریک نے پرتشدد راستہ اختیار کیا، علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے اس وقت کی حکومت نے صوفی محمد سے معاہدہ کیا، لیکن معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکلے۔ دو ہزار ایک میں نائن الیون واقعے کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں چڑھائی کر دی، افغان طالبان کی مدد کیلئے صوفی محمد نے اپنے ہزاروں کارکنوں کیساتھ افغانستان چلے گئے، تاہم کچھ ہی عرصے بعد وہ واپس آئے۔ اسی دوران اس وقت کی حکومت نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کو کالعدم قرار دے کر تنظیم کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی اور صوفی محمد کو قید کر لیا گیا۔ دو ہزار آٹھ میں مالاکنڈ ڈویژن میں تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی سرگرمیوں کے باعث پیپلز پارٹی کی حکومت نے صوفی محمد کو رہا کیا، تاہم 26 جولائی 2009ء کو انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ 2018ء میں صوفی محمد کو دوبارہ رہا کر دیا گیا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: