IQNA

9:19 - September 08, 2019
خبر کا کوڈ: 3506599
بین الاقوامی گروپ- کشمیر کو مسلم امہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے، عربی وزراء خارجہ کی پاکستان کو وصیت نما دھمکی۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اکٹھے پاکستان کا دورہ کیا اور اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کی اندرونی کہانی یہ سامنے آئی کہ عرب دوستوں نے پاکستان پر واضح کیا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے، اسے مسلم امّہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔

اس خبر کو انکشاف کے طور پر نہیں لیا جاسکتا کیونکہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری پہلے ہی پاکستانیوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں یہ بات اعلیٰ سطح کے رابطوں کے دوران سمجھ آچکی تھی۔ وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت نے اسی لیے اس خبر پر نہ بُرا منایا اور نہ ہی اس کی تردید کی ضرورت محسوس کی گئی۔

 

بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز دینے کے بعد اماراتی وزیرِ خارجہ کا سعودی ہم منصب کے ساتھ پاکستان آنا اہم ہے۔ ایک تو نریندر مودی کو ایوارڈ دینے سے اماراتی شیخوں کے بارے میں پاکستان میں رائے عامہ متاثر تھی دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ واضح کیا جائے کہ نریندر مودی کو ایوارڈ دینے سے عرب امارات پاکستان کے ساتھ دشمنی نہیں کر رہا۔ تیسری وجہ اسرائیل فلسطین تنازع پر امریکی صدر کے ’ڈیل آف دی سنچری‘ کے اجرا کی تاریخ کا قریب آنا ہے۔ فلسطین تنازع کو بھی کشمیر کے ساتھ ملا کر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ فلسطین پر بھی عربوں کا مؤقف کشمیر کی طرح بدل گیا ہے۔

 

پاکستان میں اماراتی شیخوں سے متعلق رائے عامہ ہمارے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے ہی ہموار کرچکے ہیں۔ جہاں تک بات ہے دشمنی کا تاثر ختم کرنے کی تو یہ اماراتی شیخوں کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی۔ عالمی سچائی کے طور پر ایک محاورہ سفارت کاری کا حصہ ہے کہ اگر تم اپنے حریف کو شکست نہیں دے سکتے تو اس کے شراکت دار بن جاؤ۔

 

عرب امارات کو سی پیک اور گوادر سے کتنی ہی پرخاش کیوں نہ ہو یہ حقیقت ہے کہ چین سی پیک سے پیچھے ہٹے گا اور نہ ہی گوادر منصوبے کو ناکام ہونے دے گا۔

 

امارات کو ان دونوں منصوبوں سے ڈر ہے لیکن اسے یہ بھی علم ہے کہ وہ انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں، اس لیے وہ سفارت کاری کے اس سنہرے اصول پر عمل پیرا ہے۔ امارات پاکستان کو دشمن بنانے کی پوزیشن میں نہیں لیکن بھارت کے ساتھ مفادات بھی جڑے ہیں، اس لیے اس نے واضح کردیا ہے کہ کشمیر کو چھوڑ کر باقی تمام امور پر پہلے کی طرح تعلقات اور تعاون برقرار رہے گا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: