IQNA

9:14 - September 10, 2019
خبر کا کوڈ: 3506603
بین الاقوامی گروپ-پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یوم عاشور آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

ایکنا نیوز- یوم عاشورا کے موقع پر ملک کے تمام شہروں میں جلوس برآمد کئے گئے ہیں جن کی سیکیورٹی کے لئے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں، کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اورپشاور سمیت دیگر شہروں میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہے جب کہ موبائل فون سروس بھی معطل کی گئی ہے۔

 

 کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا ہے جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا، جلوس کی گزرگاہوں پر منتظمین کی جانب سے پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائی گئی ہیں جب کہ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز اورپولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

ملک بھرمیں یوم عاشور آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہاہے

 جلوس کی نگرانی کے لیے پولیس کی جانب سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی قائم کیا گیا جس میں خفیہ کیمروں کے ذریعے جلوس کی نگرانی کی جارہی ہے، اس کے علاوہ جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔ حیدرآباد، نواب شاہ، میرپور خاص، سکھر سمیت سندھ کے دیگر چھوٹے اور بڑے شہروں سے بھی ماتمی جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اختتام پذیر ہوں گے۔

 

یوم عاشور کے موقع پرلاہورسمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے ہیں، لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔

ملک بھرمیں یوم عاشور آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہاہے

 بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی یوم عاشور کی مناسبت سے ماتمی جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے، کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس عملدار روڈ سے برآمد ہوگا، جلوس کی سیکیورٹی کے پیش پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

 

 پشاور میں یوم عاشور کے موقع پرشہربھرسے چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوں گے۔

 

 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم عاشور کے موقع پر چھوٹے بڑے جلوس برآمد ہوں گے جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اختتام پذیر ہوں گے اس موقع پر شہر بھر میں فون سروس بھی معطل کی گئی ہے۔

 

 گلگت بلتستان اورآزادکشمیرمیں یوم عاشورکی مناسبت سے جلوس برآمد ہوئے ہیں جو اپنے مقررہ راستوں ہوتے ہوئے رات 9 بجے تک اختتام پذیر ہونگے۔

 

قابل ذکر ہے کہ دس  محرم، روز عاشورا کوامام عالی مقام اور یزید کی دونوں فوجوں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں امام حسینؑ، آپؑ کے بھائی عباس بن علیاور شیرخوار علی اصغر سمیت بنی ہاشم کے 17 افراد اور 50 سے زیادہ اصحاب شہید ہوئے۔ بعض مقتل نگار شمر بن ذی الجوشن کو امام حسینؑ کا قاتل قرار دیتے ہیں۔ عمر بن سعد کے لشکر نے اپنے گھوڑوں کے سموں تلے شہیدوں کے اجساد کو پامال کیا۔ روز عاشور عصر کے وقت سپاه یزید نے امام حسینؑ کے خیموں پر حملہ کر کے انہیں نذر آتش کیا۔  اس رات کو شام غریباں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ امام سجادؑ نے بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لیا لہذا آپؑ اس جنگ میں زندہ بچ گئے اور حضرت زینبؑ، اہل بیت کی خواتین اور بچوں کے ساتھ دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ عمر بن سعد کے سپاہیوں نے شہدا کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا اور اسیروں کو عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا اور وہاں سے انہیں یزید کے پاس شام بھیجا گیا۔

اس دن کو دنیا بھر میں خاندان رسالت اور امام کے چاہنے والے یوم سوگ و عزاداری کے طور پر منا کر امام وقت کو پرسہ اور امام سے بیعت اور ظالموں سے نفرت کا اظھار کرتے ہیں۔

نام:
ایمیل:
* رایے: