
ایکنا نیوز- خبر رساں ایجنسی آناطولیہ کے مطابق ہالینڈ کی وزیر برائے خارجہ تجارت و ترقیاتی تعاون، سیوِرد ویمر دیسما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ہالینڈ کی کابینہ نے اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی تجارت پر پابندی کی منظوری دے دی ہے، کیونکہ یہ بستیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق غیرقانونی ہیں۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے 1967 میں قبضہ کیے گئے علاقوں میں قائم کی جانے والی اسرائیلی بستیاں غیرقانونی تصور کی جاتی ہیں۔
دیسما نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے، زور دیا کہ ہالینڈ اس غیرقانونی صورتحال کے تسلسل میں کسی قسم کا حصہ دار بننا نہیں چاہتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیرقانونی ہے، جو مغربی کنارے کے وسیع حصوں پر مشتمل ہے، اور اس صورتحال کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
دیسما نے کہا: اسی لیے ہم اب یہ اقدامات کر رہے ہیں اور یورپ سے مسلسل مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے راستے کی پیروی کرے۔
ہالینڈ کی حکومت نے تاکید کی کہ بستیوں کی مصنوعات پر پابندی کا مقصد یہ ہے کہ ہالینڈ کی اقتصادی سرگرمیاں ایسے حالات کے تسلسل میں شریک نہ ہوں جو بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں۔
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیرقانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی اور ان کی خرید و فروخت بھی روک دی جائے گی۔/
4353707