روسی مستشرقین کا قرآنی ترجمے میں کردار

IQNA

روسی مستشرقین کا قرآنی ترجمے میں کردار

7:54 - May 24, 2026
خبر کا کوڈ: 3520248
ایکنا: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ روسیوں کے قرآنِ کریم کے تراجم میں دلچسپی کی کوئی تاریخی بنیاد نہیں، بلکہ یہ صرف سوویت یونین کے انہدام کے بعد پیدا ہوئی ہے جبکہ روسی مستشرقین نے بھی اس مقدس کتاب کے ترجمے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

ایکنا نیوز- مرکزاسلامک اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق قرآنِ کریم کا ترجمہ ایک مستقل علمی فن ہے، جس کے اپنے اصول و قوانین ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مترجم دیانت دار، قابلِ اعتماد اور کم از کم دو زبانوں (مبدأ اور ہدف زبان) پر گہری دسترس رکھتا ہو۔ مترجم کو دیگر زبانوں اور متعلقہ علوم سے بھی واقف ہونا چاہیے تاکہ وہ مختلف تراجم کا تقابل کرکے اپنے کام کو بہتر بنا سکے۔

قرآنِ کریم کا مترجم علومِ قرآنی اور حدیث سے آگاہ ہو، مختلف مکاتبِ فکر کے علماء سے مسلسل رابطے میں رہے اور ان سے مشورہ کرے۔ اسی طرح مترجم پر لازم ہے کہ وہ سابقہ تراجم میں موجود غلطیوں سے مکمل آگاہی رکھے تاکہ ان کی تکرار سے بچا جا سکے۔

آج روس میں علومِ قرآنی سے متعلق اکثر مطالعات مستشرقانہ روایات سے شدید متاثر ہیں۔ مسلمان محققین کی تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیوں نے روسی مستشرقین کو حدیث اور تاریخی متون پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کیا ہے، جبکہ بعض اوقات وہ قرآن کی ناقص تفاسیر سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان تراجم کو روسی زبان بولنے والے مسلمانوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی، جو قرآن کے معانی کو سمجھنے کے خواہش مند تھے۔

روسی زبان میں قرآنِ کریم کا پہلا ترجمہ ڈاکٹر سمیہ عفیفی، جو قاہرہ کی عین شمس یونیورسٹی کے شعبۂ سلاوی زبانوں میں روسی زبان کی استاد تھیں، نے انجام دیا۔ انہوں نے اس ترجمے کا آغاز 1995 میں کیا اور 2000 میں جامعہ ازہر کی ایک کمیٹی کی نگرانی میں اسے مکمل کیا۔ اس ترجمے کو روسی زبان بولنے والے مسلمانوں کی جانب سے مثبت استقبال ملا۔

روسی مستشرقین اور قرآن کے ترجمے کی تاریخ

روسی زبان دنیا کی ان زندہ زبانوں میں شامل ہے جن میں قرآنِ کریم کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ روسی زبان میں قرآن کے ترجمے کی تاریخ، روس میں مستشرقانہ مطالعات کے ارتقا سے جڑی ہوئی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں نے روس کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

روس میں مشرقی علوم کے آغاز کو پیٹر اعظم اور کیتھرین اعظم کے دور سے منسوب کیا جاتا ہے، جب عرب ثقافت میں حقیقی دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس زمانے میں عربی زبان کو فرانسیسی، انگریزی اور جرمن کے ساتھ روس کی اہم زبانوں میں شامل کیا گیا۔ یہ عمل اٹھارہویں صدی کے پہلے ربع میں پیٹر اعظم کے دورِ حکومت میں ہوا، جس کے اصلاحاتی اقدامات نے روس کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالا۔

انیسویں صدی کے آغاز سے روس میں مشرقی مطالعات میں دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا۔ عربی و اسلامی مستشرقانہ مطالعات کا باقاعدہ آغاز پیٹر اعظم کے دور میں ہوا اور قرآنِ کریم کا پہلا روسی ترجمہ 1716 میں مکمل کیا گیا۔ یہ ترجمہ ڈاکٹر پیٹر پوستنکوف نے فرانسیسی مستشرق دوری کے 1643 کے فرانسیسی ترجمے سے کیا تھا۔

تاہم عربی سے روسی زبان میں قرآن کا پہلا براہِ راست ترجمہ 1878 میں سابلوکوف نے کیا، جو عربی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ یہ ترجمہ 1879 سے 1898 تک کئی بار شائع ہوا۔

عربی زبان کے ماہر موخلینسکی (1808-1877) نے بھی قرآن کو بیلاروسی اور پولش زبانوں میں ترجمہ کیا، تاکہ بیلاروس، پولینڈ اور لتھوانیا کے مسلم تاتاری اس سے استفادہ کر سکیں۔

روسی شاعر الیگزینڈر پوشکن کی اسلام اور قرآنِ کریم سے دلچسپی محض تخیل یا اتفاق نہیں تھی، بلکہ عرب تاریخ، تہذیب، ادبیات اور اسلامی تعلیمات کے گہرے مطالعے کا نتیجہ تھی۔

مشہور روسی مستشرق ایگناٹی کراچکوفسکی، جن کا نام بیسویں صدی کے پہلے نصف میں روس میں بہت نمایاں ہوا، نے مشرقی علوم کی تدریس اور تحقیق میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ 1859 میں ان کی کتاب “قرآن کی مکمل فہرست یا اس کے الفاظ و عبارات کا مقدمہ” شائع ہوئی۔

بہت سے روسی ماہرین اور مستشرقین نے سابلوکوف کے ترجمے پر تنقید بھی کی، تاہم ان تمام خامیوں کے باوجود یہ ترجمہ ایک صدی سے زائد عرصے تک روسی مسلمانوں کی ضروریات پوری کرتا رہا اور اسلام کے اہم مراجع میں شمار ہوتا ہے۔

کسی واسطہ زبان سے ہونے والا آخری ترجمہ نیکولایوف کا تھا، جس کے بعد روسی عربی دانوں نے قرآن کا براہِ راست عربی سے روسی ترجمہ شروع کیا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں یوکرینی محقق کریمسکی نے قرآن کی چند سورتوں کا ترجمہ اور تفسیر شائع کی، لیکن وہ اپنا منصوبہ مکمل نہ کر سکے۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد، خصوصاً سابق سوویت ریاستوں میں، قرآنِ کریم کے تراجم کی طرف توجہ میں نمایاں اضافہ ہوا۔/

 

4324381

نظرات بینندگان
captcha