
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے "البلد" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی "نیشنل ایسوسی ایشن آف مسلم پولیس آفیسرز" (NAMP) کی جانب سے شائع کی گئی ایک پالیسی دستاویز نے اس وقت وسیع بحث و مباحثہ کو جنم دیا جب اسے اسرائیل مخالف اور تشویش ناک موقف کی حامل قرار دیا گیا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق، یہ دستاویز بعد میں انٹرنیٹ سے ہٹا دی گئی۔ دستاویز میں اسرائیلی حکومت کو ایک "صہیونی دہشت گرد تنظیم" قرار دیا گیا، جبکہ صہیونیت کو "مسلمانوں کے خلاف نفرت" کی ایک شکل بتایا گیا۔ مزید برآں، 7 اکتوبر کے حملوں سے متعلق بعض بیانیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں "بے بنیاد" قرار دیا گیا۔
دستاویز میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کی وضاحت میں ہولوکاسٹ کو "نامناسب انداز میں استعمال" کیا جاتا ہے۔ اس مؤقف پر یہودی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ ایسے بیانات سیاسی تنقید کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور سکیورٹی اداروں کی غیر جانبداری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
برطانیہ میں یہود دشمنی کے خلاف سرگرم مہم نے پولیس سے منسلک پلیٹ فارمز پر اس نوعیت کی دستاویز کی اشاعت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باضابطہ تحقیقات اور اس کی تیاری و اشاعت کے ذمہ دار افراد سے جواب طلبی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کی متعدد یہودی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ پولیس حلقوں میں ایسے مواد کی گردش سے یہودی برادری کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ دستاویز کی تیاری اور تقسیم کے طریقہ کار کو واضح کیا جائے اور یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ مستقبل میں اس قسم کے مواد کو دوبارہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔/
4356865