اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجه(س) کا اہم کردار

IQNA

7:34 - August 24, 2026
خبر کا کوڈ: 3520619
امریکن استاد؛

اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجه(س) کا اہم کردار

ایکنا: یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے عربی مطالعات کے سربراہ نے اپنی کتاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی زوجہ حضرت خدیجہ(س) کے ابتدائی اسلام کی تشکیل میں کردار اور اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

1

ایکنا نیوز- دس ربیع الأول صرف تاریخ میں ایک اتفاق نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کے اہم ترین رشتوں میں سے ایک کے آغاز کا نقطۂ آغاز ہے۔ اس دن خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ(ص) اور حضرت خدیجہ(س) کا رشتہ صرف ایک ازدواجی بندھن نہیں تھا بلکہ ایک حکمتِ عملی پر مبنی اتحاد تھا، جس نے مکہ کے دشوار حالات میں اسلامی تہذیب کی ابتدائی بنیادیں استوار کیں۔ یہ ایسا رشتہ تھا جس میں حضرت خدیجہ(س) کی دولت اور سماجی حیثیت رسول اکرم(ص) کی رسالت کے لیے پشت پناہی بن گئی، تاکہ اسلام کی غربت اور تنہائی کے دور میں وحی کا بھاری بوجھ اہل ایمان کے دلوں کے لیے تسکین کا ذریعہ بن سکے۔

عمران اقبال البدوی، امریکا کی یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے شعبۂ عربی مطالعات کے سربراہ نے اپنی کتاب "ملکہ اور انبیاء: عرب اشرافیہ کی خواتین اور مقدس مردوں نے بت پرستی، مسیحیت اور اسلام کو کیسے تشکیل دیا" میں حضرت خدیجہ(س) کے بارے میں روایتی تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں عربستان کی مذہبی اور ثقافتی تبدیلیوں میں ایک مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔

ذیل میں قرآنی نیوز ایجنسی (ایکنا) کی عمران اقبال البدوی کے ساتھ گفتگو کا مکمل متن پیش کیا جا رہا ہے:

ایکنا: آپ کی کتاب کے ایک باب میں حضرت خدیجہ(س) کو نہ صرف ایک معاون بیوی بلکہ ایک تاریخی اور تبدیلی لانے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ تصور حضرت خدیجہ(س) کے کردار کے بارے میں روایتی اسلامی روایات کو کس طرح چیلنج یا وسعت دیتا ہے؟

استاد: حضرت خدیجہ(س) کو اس انداز میں پیش کرنے کے میرے دو بنیادی مقاصد ہیں۔

اول یہ کہ وہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی ان قدیم خواتین کے سلسلے سے تعلق رکھتی تھیں جنہوں نے عربستان اور مشرقِ قریب کی تاریخ، ثقافت اور مذہب کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ ان خواتین میں ملکہ، کاہنات، جنگجو، قبائلی سربراہان اور دیگر ممتاز شخصیات شامل تھیں۔ ان میں سے بعض خواتین ایسے الوہی تصورات سے وابستہ تھیں جنہیں بعد میں ابراہیمی مذاہب نے اختیار کیا اور نئے مفاہیم دیے۔

دوم یہ کہ عربی ماخذ، جن میں سیرت کی روایات بھی شامل ہیں، حضرت خدیجہ(س) کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ وہ محمد(ص) کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ اور ذاتی دونوں تعلقات میں، بعثت سے پہلے بھی اور نبوت کے ابتدائی دور میں بھی، زیادہ بااختیار شریک تھیں۔

اس کے علاوہ، ان ماخذ میں عدم توازن پایا جاتا ہے، کیونکہ وہ حضرت خدیجہ(س) کے خاندان کے مسیحی اور حنیفی پس منظر کو کم اہمیت دیتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس محمد(ص) کے مشرک خاندان کو پاکیزہ اور قابلِ ستائش بنا کر پیش کرتے ہیں۔

میرا ماننا ہے کہ حضرت خدیجہ(س)، جو رسول اکرم(ص) کی زوجہ تھیں، نے ان کے چچا ابوطالب کے مقابلے میں رسول اللہ(ص) کی حمایت اور حفاظت میں زیادہ اہم کردار ادا کیا۔

ایکنا: مذہبی تاریخ میں خواتین کے کردار پر نظرثانی میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر، آپ چاہتے ہیں کہ خصوصاً مسلمان حضرت خدیجہ(س) کے بارے میں آپ کی اس ازسرنو قرأت سے کیا نتیجہ اخذ کریں؟

استاد: سب سے پہلے یہ کہ اسلام کے بانی کی سب سے طویل جذباتی وابستگی اور سب سے قریبی تجارتی شراکت داری ایک خاتون، یعنی حضرت خدیجہ(س)، کے ساتھ تھی۔

لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ محمد(ص)، حضرت خدیجہ(س) کے زیادہ قریب تھے، بہ نسبت ابوطالب، ابوبکر یا عمر کے؛ اور انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ عرصہ حضرت خدیجہ(س) کے ساتھ گزارا، بہ نسبت حضرت عائشہ(س) یا اپنی دیگر ازواج کے۔

اور آخر میں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج اسلام میں صنفی تعلقات کی موجودہ صورت نہ تو ناگزیر تھی اور نہ ہی پہلے سے طے شدہ۔ آج اسلام میں خدیجہ(س) کی طرز کی ازدواجی روایت کہاں ہے؟ البتہ شیعی روایتِ ازدواج، اہل سنت کے رائج نمونے کے مقابلے میں، اس قدیم روایت سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔/

 

4368855

نظرات بینندگان
captcha