ایکنا: مصر کے دارالافتاء نے تاکید کی ہے کہ میلاد النبی(ص) منانا سنتِ مؤکدہ ہے اور اس دن کی خوشی منانے کا مطلب ذکر، مدح و ثنائے رسول اکرم(ص) کے لیے اجتماعات منعقد کرنا ہے۔
ایکنا نیوز- صدی البلد نیوز کے مطابق مصر کے دارالافتاء نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں تاکید کی کہ میلاد النبی(ص) منانا حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی سنتِ مؤکدہ ہے۔ دارالافتاء نے وضاحت کی کہ اس جشن سے مراد اس دن خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ذکر، مدح و ثنائے رسول اکرم(ص)، کھانا کھلانے، روزہ رکھنے اور تہجد کی نماز ادا کرنے کے لیے اجتماعات منعقد کرنا ہے۔ یہ تمام اعمال رسول اکرم(ص) سے محبت کے اظہار کے طور پر انجام دیے جاتے ہیں اور سب جائز ہیں۔
دارالافتاء نے اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس عمومی ارشاد کو بنیاد قرار دیا: کہہ دیجیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لوگوں کو خوش ہونا چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘ (یونس: ۵۸)
اس کے علاوہ میلاد النبی(ص) منانا ہمارے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کے احترام، جشن اور خوشی کا اظہار ہے۔ آپ(ص) کی ولادت کی سالگرہ پر خوشی منانا بلاشبہ شرعی طور پر جائز ہے، کیونکہ رسول اکرم(ص) سے محبت ایمان کا ایک بنیادی رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (آل عمران: ۳۱)
مصر کے دارالافتاء نے مزید وضاحت کی کہ میلاد النبی(ص) کی مذہبی تقریبات میں قرآن کریم کی تلاوت، سیرتِ نبوی کا مطالعہ، دعا کی محافل کا انعقاد اور مدح و منقبت پڑھنا شامل ہیں، اور یہ تمام امور شریعت اسلامیہ کے مطابق جائز اور مستحب ہیں۔
دارالافتاء نے کہا کہ میلاد النبی(ص) کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک رسول اکرم(ص) پر درود و سلام بھیجنا ہے۔ اس عمل سے بند دروازے کھلتے ہیں، انسان کا مقام بلند ہوتا ہے اور آسانی و مشکل دونوں حالات میں قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ درود و سلام غم و اندوہ کو دور کرنے، مشکلات اور گتھیوں کو سلجھانے، خواہشات پوری ہونے اور ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
قرآن کی تفسیر میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
دوسری جانب، مصر کے دارالافتاء نے تاکید کی ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر کے لیے چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے پروگراموں پر مکمل انحصار کرنا شرعاً حرام ہے۔
دارالافتاء نے کہا کہ کتاب اللہ کو قیاس و گمان سے محفوظ رکھنے اور بغیر علم کے قرآن کی تفسیر پھیلانے سے بچنے کے لیے معتبر ماخذ، یعنی معروف مفسرین اور فقہائے کرام کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ قرآن کریم کی تفسیر میں ChatGPT جیسے مصنوعی ذہانت کے پروگراموں پر انحصار کرنے کا کیا حکم ہے؟ دارالافتاء نے قرآن کریم کے معانی کی تفسیر اور فہم کے لیے معتبر کتبِ تفسیر سے رجوع کرنے یا دستیاب ذرائع کے ذریعے قابل اعتماد ماہرین اور متعلقہ مذہبی اداروں سے وضاحت حاصل کرنے پر زور دیا۔
دارالافتاء کے مطابق یہ اقدام کتاب اللہ کے تحفظ اور علم، دیانت داری اور تخصص پر مبنی درست فہم کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
مصر کے دارالافتاء نے واضح کیا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے پروگرام بعض عمومی معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم قرآن کریم کی آیات کی تفسیر یا ان سے شرعی احکام اخذ کرنے کے لیے انہیں بنیادی یا واحد ماخذ کے طور پر استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔/
4371142