مصری خطاط کا قرآن کریم کے چھ مکمل نسخے ہاتھ سے لکھنے کا کارنامہ

IQNA

7:39 - August 25, 2026
خبر کا کوڈ: 3520626

مصری خطاط کا قرآن کریم کے چھ مکمل نسخے ہاتھ سے لکھنے کا کارنامہ

ایکنا: مصری استادِ خطاطی نے بتایا کہ انہوں نے قرآن کریم کے چھ مکمل نسخے اپنے ہاتھ سے تحریر کیے ہیں۔

1

ایکنا نیوز-  المصری الیوم نیوز کے مطابق خطاطوں کی یونین کے سربراہ اور سرکاری فنون ایوارڈ حاصل کرنے والے مسعد خضیر البورسعیدی نے ٹیلی ویژن چینل ON TV کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خطاطی، بالخصوص قرآن کریم کی خطاطی کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو کی۔

خضیر نے پورٹ سعید میں اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ۱۹۴۷ء میں پیدا ہوئے اور لکھنے سے ان کا تعلق چار سال کی عمر ہی میں قائم ہوگیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی قبضے کے خلاف مزاحمت جاری تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی اور اپنے والد کی گرفتاری سے قبل، برطانوی فوجیوں کے ساتھ مزید جھڑپوں سے بچنے کے لیے وہ محلے کے بچوں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن جایا کرتے تھے تاکہ برطانوی فوجیوں پر پتھر پھینک سکیں۔

البورسعیدی نے کہا کہ جیل سے رہائی کے بعد، جب وہ ابھی بچے ہی تھے، انہوں نے سب سے پہلے یہ جملہ لکھا: جو شخص استعمار کے ساتھ تعاون کرے، وہ موت کا مستحق ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہی جملہ ان کے اندر تحریر اور خطاطی کی دنیا سے شوق کا آغاز بنا۔

اس مصری فنکار نے بتایا کہ اپنے فنی سفر کے دوران انہوں نے عربی خطاطی کی ۱۰۸ اقسام میں مہارت حاصل کی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ خطِ ثلث آج بھی ہر خطاط کے لیے سب سے مشکل اور اہم امتحان ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس خط میں حروف کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ہندسی اصولوں، ترکیب و ترتیب اور ایک دوسرے میں پیوست حرکات کو سمجھنے کی گہری صلاحیت بھی ضروری ہوتی ہے۔

البورسعیدی نے ۱۹۶۰ء کی دہائی سے مصر کی ٹیلی ویژن عمارت میں اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے تجربے کا ایک دلچسپ پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قرآن کریم کے چھ مکمل نسخے ہاتھ سے تحریر کیے تاکہ ٹیلی ویژن کی ریکارڈنگ کے دوران وہ ممتاز قرآنی قاریوں کے پیچھے دکھائی دیتے رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے بعض نسخوں کے تقریباً چھ ہزار صفحات تھے۔ یہ آیات سیاہ گتے کے صفحات پر تحریر کی جاتی تھیں اور قاری کی تلاوت کے ساتھ ہی کیمرے کے سامنے صفحات تبدیل کیے جاتے تھے تاکہ تحریر کردہ الفاظ قاری کی تلاوت کی جانے والی آیات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

البورسعیدی نے کہا کہ یہ طریقہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اسکرینوں کے ظہور سے قبل استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ممتاز قرآنی قراء میں سے شیخ محمود خلیل الحصری اور شیخ مصطفیٰ اسماعیل سمیت متعدد قراء کی تلاوت کے دوران ان کے ہاتھ سے تحریر کردہ قرآن کے نسخے ان کے پیچھے دکھائی دیتے تھے۔/

 

4371502

نظرات بینندگان
captcha