دفاعی معاہدہ؛ اسلامی اتحاد کی کمزوریوں کے ازالے کا موقع

IQNA

7:45 - August 25, 2026
خبر کا کوڈ: 3520628
پاکستانی دانشور:

دفاعی معاہدہ؛ اسلامی اتحاد کی کمزوریوں کے ازالے کا موقع

ایکنا: پاکستان دانشور نے مکہ معایدہ کو موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کی افادیت کا انحصار اس کی وسعت، دیگر اسلامی ممالک کی شرکت اور اسے ظلم، استبداد اور صہیونی حکومت کی غاصبانہ قبضہ گیری کے خلاف ایک اتحاد میں تبدیل کرنے پر ہے۔

1

ایکنا نیوز- ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا کا سکیورٹی نظام مغرب کی حمایت یافتہ روایتی اتحادوں سے نکل کر "علاقائی خود انحصاری" کے ماڈلز کی جانب بڑھ رہا ہے، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی و سلامتی کے معاہدے پر دستخط نے ایک بار پھر عالمِ اسلام کی عسکری صلاحیتوں کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔

ایکنا نے پاکستان کے ممتاز عالمِ دین، دینی و سیاسی امور کے ماہر اور سماجی و شہری کارکن حجت الاسلام والمسلمین غیور غالب سے گفتگو میں اس مسئلے کا جائزہ لیا کہ سیاسی حقیقت پسندی کے پیمانے پر اس معاہدے کو کس طرح پرکھا جاسکتا ہے اور کیا یہ معاہدہ امتِ اسلامی کے اتحاد و یکجہتی کی دیرینہ کمزوریوں کو دور کرسکتا ہے۔

ایکنا: جیسا کہ آپ جانتے ہیں، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ایک دفاعی و سلامتی کا معاہدہ طے پایا ہے۔ آپ کے خیال میں اس معاہدے کے مستقبل میں امتِ اسلامی کے لیے کیا فوائد ہوسکتے ہیں؟

غیور غالب: اس معاہدے کا عملی طور پر طے پانا ایک اچھی اور بروقت پیش رفت ہے، جسے نیک شگون سمجھنا چاہیے۔ علمائے اسلام اور ممتاز مسلم رہنماؤں، خصوصاً امام خمینیؒ کی بھی یہی خواہش تھی کہ مسلمان آپس میں ایک متحدہ اتحاد قائم کریں، ظلم، استبداد اور طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف کھڑے ہوں اور سب سے بڑھ کر صہیونیت کے ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جائیں اور مظلوم کا حق ظالموں سے دلائیں۔

تاہم بہتر یہ ہوتا کہ اس معاہدے میں تمام اسلامی ممالک اور مسلم ممالک کے تمام سربراہان شامل ہوکر ایک متحدہ اتحاد تشکیل دیتے اور ایسا معاہدہ کرتے جو تمام مسلمانوں کے لیے مثبت اثرات کا باعث بنتا۔ البتہ جیسا کہ اعلان کیا گیا ہے، دیگر ممالک کے لیے اس اتحاد میں شامل ہونے کی راہ کھلی ہے۔

ایکنا: ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے تقریباً ڈھائی سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران فلسطین کے بے گناہ عوام، جن میں بچے، خواتین اور مرد شامل ہیں، صہیونی قابض حکومت کی نسل کشی کے نتیجے میں خون میں نہاتے رہے اور غزہ میں ان کے گھر اور وطن ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ کیا اسی وقت اس اتحاد اور معاہدے کا قیام ضروری نہیں تھا؟ کیا اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے غزہ کے بے دفاع عوام کی فریاد نہیں سنی یا سننا نہیں چاہا؟ حتیٰ کہ بعض اسلامی ممالک کے حکمران اپنی بقا کو صہیونی حکومت کے ساتھ سمجھوتے میں دیکھتے رہے۔ آپ اس غفلت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

غیور غالب: جیسا کہ آپ نے اشارہ کیا، یہ معاہدہ غزہ جنگ کے اسی بحران کے دوران وجود میں آنا چاہیے تھا، جب مظلوم فلسطینی مسلمان اپنی خواتین اور بچوں کی شہادت کا مشاہدہ کر رہے تھے، اپنے گھروں اور وطن سے بے دخل کیے جا رہے تھے اور اپنے مقتولین کی لاشیں ملبے اور خاک کے ڈھیروں سے نکال رہے تھے۔

کاش اس وقت ایک متحدہ اتحاد تشکیل پاتا، امتِ اسلام کے رہنما بیدار ہوتے اور کم از کم اپنی سرحدیں فلسطینی مہاجرین کے لیے کھول دیتے اور فلسطین میں ہزاروں شہداء اور قیدیوں کے المیے کو خاموش تماشائی بن کر نہ دیکھتے۔

بدقسمتی سے صرف چند ممالک نے قابض حکومت کے ظلم و بربریت کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی۔ تاہم ہمیں اب بھی حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ اگر تمام مسلمان غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائیں اور اس غاصبانہ قبضے کے مقابلے میں خاموشی اختیار نہ کریں تو ایک متحدہ اتحاد اور مضبوط یکجہتی کے ذریعے ظلم و استبداد کے خلاف کھڑا ہوا جاسکتا ہے اور مظلوم کا حق ظالم سے دلایا جاسکتا ہے۔

یہی اتحاد امتِ اسلام کے لیے حقیقی اور مؤثر معاہدہ ہوگا، جس کے اثرات اور برکات تمام مسلمانوں تک پہنچیں گے۔/

 

4370567

نظرات بینندگان
captcha