رهبر شهید کی قرآنی فرمائش؛ عوامی کاوش اور حکومتی حمایت

IQNA

7:17 - August 26, 2026
خبر کا کوڈ: 3520632
حجت‌الاسلام حاج‌ابوالقاسم :

رهبر شهید کی قرآنی فرمائش؛ عوامی کاوش اور حکومتی حمایت

ایکنا: حافظِ کل قرآن نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ۱۰ ملین حفاظِ قرآن کی تربیت کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے ایک جامع اور قومی تحریک کی ضرورت ہے اور ملک کی تمام صلاحیتوں، بالخصوص مخیر حضرات، قرآنی اداروں، ثقافتی مراکز اور فیصلہ ساز اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

1

ایکنا نیوز- قرآن کریم، شہید رہبرِ انقلاب کے فکری نظام میں محض تلاوت اور حفظ کی کتاب نہیں، بلکہ فرد اور معاشرے میں تبدیلی کا محور اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے۔ اسی وجہ سے گزشتہ برسوں کے دوران قرآنی ثقافت کے فروغ، حفاظِ قرآن کی تربیت اور عوامی سطح پر آیاتِ الٰہی سے تعلق مضبوط بنانے کے حوالے سے واضح اہداف پیش کیے گئے، جن میں ۱۰ ملین حفاظِ قرآن کی تربیت کا ہدف نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

اگرچہ قرآنی اداروں، کارکنان اور عوامی تنظیموں نے اس راستے میں اہم اقدامات کیے ہیں، تاہم ابھی اس ہدف کے مکمل حصول کے لیے کافی فاصلہ باقی ہے۔

اسی سلسلے میں ایکنا نے حجت الاسلام والمسلمین محمد حاج ابوالقاسم، حافظِ کل قرآن کریم اور بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کے منصف، سے گفتگو کی، جس میں شہید رہبرِ انقلاب کے قرآنی مطالبات پر عمل درآمد کی صورتحال، ۱۰ ملین حفاظِ قرآن کی تربیت کے ہدف کے حصول کے تقاضوں اور حالیہ جنگی حالات میں قرآنی سرگرمیوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

ایکنا: شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی نے گزشتہ برسوں کے دوران قرآن کے حوالے سے متعدد مطالبات پیش کیے اور معاشرے میں قرآن کے مقام کو بلند کرنے پر ہمیشہ زور دیا۔ آپ کے خیال میں ان مطالبات پر کس حد تک عمل ہوا ہے؟

شہید رہبرِ انقلاب نے قرآن کے میدان میں ایک بلند اور مثالی افق کو پیش نظر رکھا تھا۔ وہ اپنی رہنمائی کے دوران قرآنی ترقی کی بلند چوٹیوں کی نشاندہی کرتے اور معاشرے کو ان چوٹیوں کی جانب آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔

ہمیں صرف اس لیے کہ ہم ابھی مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچ سکے، ماضی میں کیے گئے تمام اقدامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں قرآنی مراکز، اداروں، قرآن کی محافل اور عوامی تنظیموں نے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں اور ملک بھر میں قابل قدر سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ شہید رہبرِ انقلاب کی توجہ، تحسین اور تائید کا بھی حامل رہا ہے۔

لہٰذا موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے وقت ہمیں بیک وقت دو نکات کو مدنظر رکھنا چاہیے: ایک طرف قرآنی معاشرے کی کامیابیوں اور کی جانے والی کوششوں کو دیکھنا چاہیے اور دوسری طرف ان اہداف اور بلند چوٹیوں سے موجود فاصلے کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے لیے متعین کیے گئے ہیں۔ اگر ہم اس فاصلے کو تسلیم کریں گے تو اسے کم کرنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کر سکیں گے۔

ایکنا: شہید رہبرِ انقلاب کا ایک اہم مطالبہ ۱۰ ملین حفاظِ قرآن کی تربیت تھا۔ آپ کے خیال میں موجودہ فاصلے کو دیکھتے ہوئے اس ہدف کے قریب کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟

۱۰ ملین حفاظِ قرآن کی تربیت کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے ایک جامع اور قومی تحریک کی ضرورت ہے۔ یہ ذمہ داری صرف قرآنی اداروں یا عوامی تنظیموں کے کندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ قرآنی ادارے اور قرآن کی محافل اس تحریک کا ایک اہم حصہ ہیں، لیکن اتنے بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ملک کی تمام صلاحیتوں کو میدان میں آنا ہوگا۔

حاج ابوالقاسم

 

قرآنی مراکز و ادارے، مخیر حضرات، منصوبہ ساز، فیصلہ ساز اور پالیسی سازی کرنے والے ادارے، ثقافتی مراکز اور پالیسی سازی کے شعبے میں سرگرم تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اگر ہم ۱۰ ملین حفاظِ قرآن تیار کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوگا۔ حفظِ قرآن کی تربیت صرف چند تربیتی کورسز منعقد کرنے یا قرآنی اداروں کی تعداد بڑھانے سے ممکن نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے جامع منصوبہ بندی، مالی وسائل کی فراہمی، قرآنی اساتذہ کی تربیت، اداروں کی حمایت، خاندانوں میں شوق و ترغیب پیدا کرنے اور قرآن کی تعلیم و حفظ کے عمل کو مسلسل جاری رکھنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔/

 

4371450

نظرات بینندگان
captcha