غلاف کعبہ اور قرآنی خطاط کی پذیرائی

IQNA

7:27 - August 26, 2026
خبر کا کوڈ: 3520634

غلاف کعبہ اور قرآنی خطاط کی پذیرائی

ایکنا: مشہور سعودی خطاط اور قرآن کریم و پردۂ کعبہ پر آیاتِ وحی کے کاتب، عایض بن محمد آل عبید کو سعودی عرب کے شہر ابہا میں واقع ادبی ہال ’’محمد الحمید‘‘ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

1

ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق اس تقریب میں اس خطاط نے عربی خطاطی سے اپنے ذاتی تعلق اور تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خطاطی کی صلاحیت کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کے استاد نے انہیں سزا کے طور پر سورۂ یٰسین پانچ مرتبہ لکھنے کا پابند کیا، اور اس دوران انہیں قرآن کریم اور قواعدِ تجوید کی پابندی کرنا ہوتی تھی۔

آل عبید سائنسی انجمنِ عربی خطاطی کے رکن، عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے تحت عسیر ریجن میں ابن بواب مرکزِ عربی خطاطی کے بانی رکن، شہزادی نُورہ یونیورسٹی میں عربی خطاطی کے مشیر اور عربی خطاطی کے سرکاری ماہر بھی ہیں۔

انہوں نے متعدد معروف اسلامی عربی خطاطی کے اساتذہ اور پردۂ کعبہ کے خطاط مختار عالم شقدار سے بھی استفادہ کیا اور ان سے خطاطی کے اجازت نامے (سندیں) حاصل کیے ہیں۔

آل عبید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عربی خطاطی کی ترقی اور قرآن کریم کی کتابت کے باہمی تعلق کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ عربی خطاطی نے رسم الخط، اعراب اور حروف کی اشکال کے اعتبار سے مختلف مراحل طے کیے ہیں۔ بالآخر ان مراحل کے نتیجے میں اسلامی تاریخ کے دوران مختلف مکاتب اور خطاطی کے اسالیب وجود میں آئے اور ان کے درمیان امتیاز پیدا ہوا۔

انہوں نے معروف خطاطِ قرآن شیخ عثمان طہ کا بھی ذکر کیا، جن سے گزشتہ موسمِ گرما میں باحہ ریجن میں منعقدہ عربی خطاطی کی ایک نمائش کے دوران ان کی ملاقات ہوئی تھی۔

اس خطاط نے پردۂ کعبہ پر قرآن کریم کی آیات لکھنے کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر حصے کو الگ الگ خطاطی کے ذریعے تحریر کیا جاتا ہے، پھر اسے اگلے حصے سے جوڑا جاتا ہے، یہاں تک کہ پردہ اپنی مکمل شکل اختیار کر لیتا ہے۔

آل عبید نے بتایا کہ سعودی دور میں کعبہ کا پہلا غلاف ۱۳۴۷ ہجری میں تیار کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عربی خطاطی کے فروغ نے قرآن کریم کو ہمارے لیے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بقول، مدینہ منورہ کا مصحف اپنی نوعیت میں بے مثال ہے، کیونکہ اس کے ہر صفحے کا اختتام ایک آیت پر ہوتا ہے اور اس مصحف کا عثمانی رسم الخط کے مطابق مسلسل جائزہ اور تصدیق کی جاتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر منتظمین نے عایض بن محمد آل عبید کو تحائف پیش کرکے ان کی خدمات کو سراہا، جبکہ آل عبید نے بھی اپنے فن پاروں کے نمونے منتظمین کو بطور تحفہ پیش کیے۔/

 

4371663

نظرات بینندگان
captcha