ایکنا: مصری قرّاء قرآن کریم کی نغمگی کے ساتھ تلاوت، عربی موسیقی کے مقامات کے استعمال اور قرآنی تلاوت کو بہترین انداز میں پیش کرنے کے لیے اپنی موسیقائی مہارت سے استفادے کے باعث مشہور ہیں۔ ان کی تلاوت سامعین کے لیے سکون اور روحانی لذت کا باعث بنتی ہے۔
ایکنا نیوز- العربی الجدید نیوز کے مطابق تمام مسلم اقوام اس بات پر متفق ہیں کہ مصری قرّاء فنِ تلاوتِ قرآن کے علمبردار ہیں اور بلاشبہ یہ برتری اسلامی اور عرب معاشروں میں مصر کے ثقافتی، فنی اور ادبی اثر و رسوخ کی ایک علامت ہے۔
آج مسلمان دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہیں۔ عقائد، فقہ، نسل، زبان، سیاست، قدرتی وسائل، معاشی امکانات، سماجی ترقی اور موروثی رسوم و رواج کے اعتبار سے ان میں نمایاں تنوع پایا جاتا ہے، تاہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ مصری قرّاء اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔
مصری تلاوتِ قرآن کی خصوصیات
مصر میں تلاوتِ قرآن کی کئی نمایاں خصوصیات ہیں، جن میں سب سے اہم قواعدِ تجوید کی درست ادائیگی اور حروف کے مخارج کی صحت ہے۔ اسی دقت اور اہتمام کے باعث گزشتہ دو صدیوں کے دوران مصر کے علمِ قراءات کے علما، قرآن کریم کی کتابت اور مختلف ممالک میں رائج قراءت کے ساتھ اس کی ہم آہنگی کے حوالے سے اسلامی ممالک کے لیے ایک اہم علمی مرجع بن گئے ہیں۔
مصری قرّاء قرآن کریم کی نغمگی کے ساتھ تلاوت، عربی موسیقی کے مقامات کے استعمال اور قرآن کی تلاوت کو خوبصورت انداز میں پیش کرنے کے لیے اپنی موسیقائی مہارت سے استفادے کے باعث بھی مشہور ہیں۔ ان کی تلاوت سامعین کو سکون اور روحانی مسرت فراہم کرتی ہے۔
مصری قرّاء مشرقی موسیقی کے متعدد مقامات استعمال کرتے ہیں، جن میں بیات، صبا، حجاز، نہاوند، راست، سہ گاہ اور عجم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی تلاوت میں بعض ذیلی مقامات سے بھی مدد لیتے ہیں، جن میں شوریٰ، حجاز، بستہ نگار (ترکی اور عربی موسیقی میں یہ ایک ذیلی مقام ہے اور مقامِ سہ گاہ کے خاندان کا حصہ ہے)، چہارگاہ اور عشاقِ مصری شامل ہیں۔

مصر کی ریکارڈ شدہ فنی تاریخ میں یہ ملک بیسویں صدی عیسوی کی ابتدائی دہائیوں سے ہی فنِ تلاوتِ قرآن کا علمبردار رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی، گراموفون ریکارڈز کی ایجاد سے لے کر ریڈیو، ٹیلی ویژن اور بالآخر انٹرنیٹ تک، نے صرف اس مقام کو مزید مضبوط کیا اور اس کی مسلسل برتری کو مستحکم کرنے میں مدد دی۔

ریڈیو کا ظہور؛ فنِ تلاوتِ قرآن کی ترقی میں اہم سنگِ میل
قرآن ریڈیو کا آغاز مصر میں تلاوتِ قرآن کی ترقی کے حوالے سے دو وجوہ کی بنا پر ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، اول، اس سے فنِ تلاوت کے دائرۂ کار میں وسعت پیدا ہوئی اور دوم، ریڈیو پر نئی آوازوں کو قبول کرنے کے لیے سخت اور مخصوص معیار مقرر کیے گئے۔/
4334964