ایکنا: بھارتی حکام نے صرف 45 دنوں کے دوران 23 سے زائد مساجد، اسلامی مدارس اور عیدگاہوں کو مسمار کر دیا۔ یہ تمام اسلامی مراکز ان ریاستوں میں واقع ہیں جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔
ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز کے مطابق بھارت 1.5 ارب آبادی والا ملک ہے، جہاں 20 کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں اور یہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم اقلیت ہے۔ دیگر شہریوں کی طرح مسلمانوں کو بھی بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہییں، جن میں مذہبی آزادی، ملکیت کا حق اور قانونی تحفظ شامل ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں نے خاصی تشویش پیدا کی ہے اور اس حوالے سے بنیادی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ بھارت میں شہریوں کے حقوق اور اصولوں، بالخصوص مسلم اقلیت سے متعلق حقوق، کس حد تک محفوظ ہیں۔
یہ امر واضح طور پر قابلِ غور ہے کہ مساجد کی مسماری تقریباً مکمل طور پر ان ریاستوں میں ہو رہی ہے جہاں حکمران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی حکومت ہے۔
تاریخی مدارس اور مساجد کی مسماری کو الگ الگ یا اتفاقی واقعات قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک منظم طرزِ عمل معلوم ہوتا ہے۔ اس کا ثبوت ان بلڈوزروں کی کارروائیوں سے ملتا ہے جنہیں مقامی حکام مسلم اکثریتی محلوں اور علاقوں میں تعینات کرتے ہیں اور رات کی تاریکی یا دن کے اجالے میں یہ کہہ کر عمارتوں کو منہدم کر دیتے ہیں کہ وہ ’’غیر قانونی تعمیرات‘‘ ہیں۔
بلڈوزر جسٹس
چونکہ تاریخی مدارس، مساجد اور مذہبی مقامات کی منظم مسماری زیادہ تر بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں مرکوز ہے، اس لیے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مراکز کو منہدم کرنے کے فیصلے سیاسی ہیں یا قانونی؟
کارکنوں نے اس عمل کو ’’بلڈوزر جسٹس‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس تصور کی بنیاد بظاہر سادہ لیکن انتہائی تشویشناک ہے: مقامی حکام ان عمارتوں کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزر استعمال کرتے ہیں جنہیں وہ ’’غیر قانونی تعمیرات‘‘ قرار دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر ان کارروائیوں میں اکثر صرف مسلمانوں سے متعلق علاقوں اور عمارتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ بھی بغیر پیشگی اطلاع اور اپیل کا موقع دیے۔
مثال کے طور پر بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں متعدد مساجد، جن میں مسجد ذاکر حسین بھی شامل ہے، یہ الزام عائد کرتے ہوئے مسمار کر دی گئیں کہ وہ سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی تھیں۔
گجرات میں، جہاں نریندر مودی وزیر اعظم بننے سے قبل وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے، کَچھ کے علاقے میں ایک ہی رات کے دوران تقریباً 30 عمارتیں مسمار کی گئیں، جن میں جونا کاندلا مسجد بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں متعدد اسلامی مدارس اور قرآن حفظ کے مراکز بھی ’’غیر قانونی تعمیرات‘‘ قرار دے کر مسمار کیے گئے۔
مسلمانوں کا عدالتوں سے رجوع
کئی اسلامی تنظیموں، بالخصوص جماعتِ اسلامی ہند اور جمعیت علمائے ہند نے مسماری کے احکامات کی مذمت کی اور اپنے مختلف بیانات میں انہیں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور مذہبی طبقات کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا۔
ان تنظیموں نے صرف مذمت تک اکتفا نہیں کیا بلکہ قانونی کارروائی بھی کی اور عدالتوں سے رجوع کیا۔/
4371882