ایکنا: وسطی غزہ کی پٹی کے شہر دیرالبلح میں رضاکاروں نے صہیونی حکومت کی جانب سے اس عبادت گاہ پر بمباری کے بعد تاریخی مسجد ابوسلیم کی مرمت کی تیاری کے سلسلے میں اس عمارت کے باقی ماندہ حصوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مہم شروع کی ہے۔
ایکنا نیوز- القدس العربی نیوز کے مطابق میاسر ثقافت و فنون انجمن نے "محافظانِ ورثہ" ٹیم کے تعاون سے اس مہم کا اہتمام کیا۔ اس مہم میں مسجد کی راہداریوں اور بیرونی صحنوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ملبہ ہٹانے کا کام بھی شامل ہے۔
رضاکاروں نے بکھرے ہوئے پتھروں اور قدیم سنگِ مرمر کے ستونوں کو بھی جمع کیا اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کرکے ذخیرہ کیا، تاکہ ان میں سے موزوں نمونوں کو مسجد کی بحالی کے دوران دوبارہ استعمال کے لیے تیار کیا جا سکے۔
دیرالبلح کے میئر خلیل ابوسمرہ نے کہا کہ مسجد ابوسلیم ایک "تاریخی یادگار"، جسے ۱۹۵۱ء میں حاج محمد ابوسلیم کے خرچ سے عثمانی طرزِ تعمیر کے مطابق تعمیر کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا: ہم نے برسوں اس مسجد کی حفاظت کی، لیکن تقدیرِ الٰہی میں یہ دن بھی آنا تھا کہ قابض اسرائیلی افواج مسجد کی بے حرمتی کریں اور اس پر حملہ کریں۔ تاہم، ’محافظانِ ورثہ‘ اور وطن کے محافظوں کی کوششوں سے اس مقام کی مرمت کی جائے گی اور اسے اس کی سابقہ حالت میں واپس لایا جائے گا۔
میاسر ثقافت و فنون انجمن میں " محافظان ورثہ" مہم کی رابطہ کار شیماء النطور نے کہا کہ مسجد میں اس ٹیم کی موجودگی غزہ کی پٹی کی ایک اہم تاریخی عمارت کے تحفظ کے لیے " احتیاطی حفاظتی اقدامات" کا حصہ ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مسجد کی تباہی کے فوراً بعد ٹیم موقع پر پہنچ گئی تھی اور حفاظتی اقدامات شروع کرنے کے لیے ضروری اجازت ناموں کی درخواست کی تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مہم کے پہلے مرحلے میں بکھرے ہوئے پتھروں اور قدیم سنگِ مرمر کے ستونوں کو جمع کرکے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد مسجد کی مرمت اور اسے اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کے مراحل شروع کیے جائیں گے۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ اسرائیلی جنگ کے دوران غزہ کی پٹی میں متعدد تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود "محافظان ورثہ" ٹیم غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوں کے آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
مسجد ابوسلیم دیرالبلح کی نمایاں مذہبی اور معماری علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ مسجد ۱۹۵۱ء میں ’’الحدبہ القبلیہ‘‘ نامی ایک بلند مقام پر تعمیر کی گئی تھی اور ۲۰۱۰ء میں اس کی تزئین و مرمت کی گئی، جس میں اس کے اصل طرزِ تعمیر کی خصوصیات کو برقرار رکھا گیا۔
اس سے قبل ۲۰۱۴ء میں بھی صہیونی حکومت کی گولہ باری کے دوران مسجد کے مینار کے بالائی حصے کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کے بیرونی حصے کو نقصان پہنچا تھا۔ بعد ازاں رواق مرکز برائے معماری تحفظ اور ایوان مرکز برائے معماری ورثہ کے تعاون سے اس نقصان کی مرمت کی گئی۔
رواں ماہ کی ۲۴ تاریخ کو اس مسجد کو ایک بار پھر اسرائیلی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مسجد کے صحن اور مرکزی عمارت کے ایک حصے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ جاری کی گئی تصاویر میں عمارت اور اس کے اطراف کے وسیع پیمانے پر تباہ ہونے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ۸ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو صہیونی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے دوران غزہ کی پٹی کی مساجد کو بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
غزہ کی پٹی کی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ سے قبل غزہ میں موجود ۱۲۷۵ مساجد میں سے اسرائیلی حکومت نے ۱۰۵۰ مساجد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، جبکہ مزید ۱۹۱ مساجد کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔/
4372701