ترکی میں زلزلے سے تباہ تاریخی مسجد کی مرمت

IQNA

8:42 - August 30, 2026
خبر کا کوڈ: 3520649

ترکی میں زلزلے سے تباہ تاریخی مسجد کی مرمت

ایکنا: ملاطیہ میں تاریخی مسجد حاجی یوسف تاش کی مرمت کا کام جاری ہے۔ یہ مسجد 6 فروری 2023ء کے تباہ کن زلزلوں میں منہدم ہوگئی تھی۔ تزئین و آرائش اور خطاطی کا کام آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے۔

1

ایکنا نیوز- ترکی ٹوڈے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ تاریخی مسجد حاجی یوسف تاش کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ عمارت ابتدا میں سلطان عبدالحمید ثانی کی سرپرستی میں تعمیر کی گئی تھی، تاہم 6 فروری 2023ء کے زلزلوں میں منہدم ہوگئی۔ اب اس کے اندرونی حصے میں تزئینی اور خطاطی کے کام مکمل کیے جا رہے ہیں۔

مسجد کی تعمیر 1893ء میں شروع ہوئی۔ 3 مارچ 1894ء کو زلزلے کے باعث یہ مسجد تباہ ہوگئی، جس کے بعد سلطان عبدالحمید ثانی کی سرپرستی میں اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کی گئی اور اس کی تعمیر 1912ء میں مکمل ہوئی۔

اس مسجد کا ایک حصہ 2020ء میں الازیغ کے علاقے سیوریس کے مرکز میں آنے والے زلزلے میں بھی تباہ ہوا تھا، جس کے بعد اس کی مرمت کی گئی۔ تاہم 6 فروری 2023ء کے ان زلزلوں میں، جنہیں ’’صدی کی تباہی‘‘ قرار دیا گیا، مسجد ایک بار پھر منہدم ہوگئی۔

مسجد حاجی یوسف تاش کی مرمت اور بحالی کے منصوبے کا ٹینڈر مکمل ہونے کے بعد معاہدہ کیا گیا اور جولائی 2023ء میں تعمیراتی مقام ٹھیکیدار کے حوالے کر دیا گیا۔

وزارتِ ثقافت و سیاحت کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف فاؤنڈیشنز کے تاریخی ورثے کی حامل اس مسجد کی ازسرنو تعمیر کے منصوبے کے تحت، ایک سائنسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں منصوبہ شروع کیا گیا۔

چونکہ مسجد کا گنبد منہدم ہوچکا تھا اور دیواروں کا ایک حصہ بھی تباہ ہوگیا تھا، اس لیے سائنسی کمیٹی نے باقی ماندہ دیواروں کو بھی احتیاط سے منہدم کرکے زمین کو مضبوط بنانے اور عمارت کو ازسرنو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

بحالی کے منصوبے کے بعد تعمیراتی کام شروع کیا گیا اور اس کی رپورٹس کو سیواس علاقائی تحفظ بورڈ نے منظور کیا۔ مسجد کے اصل پتھروں پر نمبر لگائے گئے اور بحالی کے دوران انہیں دوبارہ دیواروں کی تعمیر میں استعمال کیا گیا۔

عمارت کا وزن کم کرنے اور چھت کو زیادہ مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے گنبدوں کو فولادی ڈھانچے کی مدد سے تعمیر کیا گیا۔ بعد ازاں فولادی ڈھانچے کی بیرونی سطحوں کو عمارت کے اصل پتھروں سے ڈھانپ دیا گیا اور اوپر سے سیسے کی تہہ چڑھا کر کام مکمل کیا گیا۔

مسجد کے اندر تزئینی منصوبے کے تحت خطاطی کا کام بھی نہایت احتیاط سے کیا گیا ہے، جبکہ عمارت کی اصل معماری اور فنکارانہ خصوصیات کو برقرار رکھا گیا ہے۔ مرکزی گنبد کے وسط میں آیت الکرسی بھی کندہ کی گئی ہے، جو اصل ڈیزائن کے مطابق ہے۔

مسجد میں زیرِ فرش حرارتی نظام نصب کیا گیا ہے اور فرش پر لکڑی کی تہہ بچھائی گئی ہے۔ خواتین کے نماز ہال کا کام بھی آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔

توقع ہے کہ بیرونی ماحول کی تزئین و آرائش اور قالین بچھانے کا کام مکمل ہونے کے بعد مسجد کو دوبارہ عبادت کے لیے کھول دیا جائے گا۔/

 

4372626

نظرات بینندگان
captcha