ایکنا: اردگان کا کہنا تھا کہ اتحاد کو مضبوط بنانے اور اختلافات کو کم کرنے کے لیے، اپنے درمیان بھی اور پوری اسلامی دنیا میں بھی کوشش کر رہے ہیں۔
ایکنا نیوز- حریت کے حوالے سے رپورٹ دی گئی ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے عالمِ اسلام میں مزید تعاون اور اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اپنے حقوق کے دفاع یا خطے میں امن کے قیام کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرسکتے۔
اردوان نے استنبول میں میلادِ رسول اکرم ﷺ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم مسلمان دوسروں سے امیدیں وابستہ کرکے کہیں نہیں پہنچ سکتے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمیں طاقتور اور مؤثر بازدار قوت کا حامل ہونا چاہیے، اپنے حقوق کا مشترکہ طور پر دفاع کرنا چاہیے اور اپنے خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے بھی مل کر کوشش کرنی چاہیے۔
اردوان نے کہا کہ ترکی اتحاد اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور ملک کے اندر اور پوری اسلامی دنیا میں اختلافات کو کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے میں ناکامی پر بین الاقوامی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ترکی کے صدر نے کہا کہ لاکھوں فلسطینی زندہ رہنے اور بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہوں نے غزہ کو ’’دنیا میں بچوں کا سب سے بڑا قبرستان‘‘ قرار دیا۔
اردوان نے مزید کہا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 13 لاکھ افراد بے گھر اور 4 ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں، جبکہ 12 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
اردوان نے کہا: نہ عالمی ادارے اور نہ ہی بین الاقوامی برادری ان قتلِ عام کو روکنے کے لیے مضبوط ارادے کا مظاہرہ کر پا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم سمجھتے ہیں کہ اتحاد میں فضیلت ہے۔
ترکی کے صدر نے آخر میں کہا: ہم اتحاد کو مضبوط بنانے اور اختلافات کو کم کرنے کے لیے، اپنے درمیان بھی اور پوری اسلامی دنیا میں بھی کوشش کر رہے ہیں۔/
4372644