اسلامی وحدت کے تحقق کا 5 نکاتی ماڈل، نظریے سے عملی میدان تک

IQNA

9:55 - August 31, 2026
خبر کا کوڈ: 3520651
عالمی تقریب مذاهب اسلامی سیکریٹری کی تاکید:

اسلامی وحدت کے تحقق کا 5 نکاتی ماڈل، نظریے سے عملی میدان تک

ایکنا: حجت الاسلام والمسلمین حمید شہریاری کے مطابق کسی بھی نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مفہوم سازی، تنظیم سازی، اشرافیہ اور دانشوروں کے درمیان بیانیہ سازی، سماجی نیٹ ورکنگ، اور آخرکار عملی میدان میں تحرک و اقدام کے مراحل طے کرنا ضروری ہیں۔

1

خراسان رضوی سے ایکنا کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین حمید شہریاری، عالمی اسمبلی برائے تقریبِ مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے اتوار، 8 شہریور کو منعقدہ بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے علما اور مہمانوں نے شرکت کی، پیغمبر اکرمؐ اور امام جعفر صادقؑ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے عالمِ اسلام میں ہم آہنگی کے میدان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی کے ماڈل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: آج ہم جس اسلامی یکجہتی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ ایک ایسے حکمتِ عملی پر مبنی ماڈل کا نتیجہ ہے جس پر مرحلہ وار عمل کیا گیا اور جو آج عملی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کا پہلا مرحلہ مفہوم سازی اور برانڈنگ ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’اسلامی وحدت‘‘ کی اصطلاح ابتدا میں وضع کی گئی، اس کی خصوصیات اور مختلف جہتوں کی نشاندہی کی گئی اور درجنوں تقاریر اور نظریاتی وضاحتوں کے ذریعے اسے لوگوں کے ذہنوں میں ایک معروف اور مستحکم تصور میں تبدیل کیا گیا۔ محض کسی نظری تصور کو پیش کر دینا کافی نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی انفرادی تحریک اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے دوسرے مرحلے میں تنظیم سازی اور ٹیم سازی کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل عالمی اسمبلی برائے تقریبِ مذاہب اسلامی کو اس نظریے کو عملی اور ادارہ جاتی شکل میں آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا۔

شہریاری نے اشرافیہ اور دانشوروں کے درمیان بیانیہ سازی کو اس ماڈل کا تیسرا مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا: مقصد یہ تھا کہ یہ فکر صرف ایک ہی زبان یا ایک ہی حلقے تک محدود نہ رہے، بلکہ عالمِ اسلام کے نخبگان، دانشور اور علما خود اس تصور کے بارے میں مواد تیار کریں اور اس کی نئی تشریح پیش کریں۔ آج ہم اس بیانیے کے فروغ کی علامات مصر میں مجلسِ حکمای مسلمین جیسے اداروں کے قیام، سعودی عرب میں بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد اور ترکی میں علما کے اجتماعات کی صورت میں دیکھ رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ پیغام عالمِ اسلام میں دوبارہ مقبول اور وسیع پیمانے پر پھیل رہا ہے۔

انہوں نے نیٹ ورکنگ کو اس ماڈل کا چوتھا مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا: نخبگان سے معاشرے کے عام افراد تک پیغام منتقل کرنے کے لیے ہمیں مواصلاتی ذرائع اور مؤثر سماجی شخصیات کی ضرورت ہے۔ اسی بنیاد پر لاکھوں افراد تک رسائی رکھنے والے میڈیا کارکنوں اور بین الاقوامی مبلغین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے نخبگان اور عوام کے درمیان رابطہ قائم کرنا ایجنڈے میں شامل ہے۔

عالمی اسمبلی برائے تقریبِ مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ وحدت کے دو پہلو ہیں: سلبی اور ایجابی۔ انہوں نے کہا: سلبی پہلو میں مقدسات کی توہین سے اجتناب، اور مسلمانوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کا احترام شامل ہے، جس کی بنیاد مراجعِ تقلید کے فتاویٰ اور شیعہ و سنی دونوں مکاتب کی روایات پر ہے۔ تاہم ایجابی پہلو میں وحدت کو خدمات کی فراہمی، حقیقی باہمی تعاون اور امتِ مسلمہ کے مسائل حل کرنے کی عملی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے۔

انہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کی ہمہ گیر حمایت کو عملی میدان میں اسلامی وحدت کی ایک واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا: غزہ کی حمایت اور فلسطین و لبنان میں مزاحمتی محاذ کو مضبوط بنانے کے اقدامات ظلم اور قبضے کے خلاف جدوجہد کے لیے دینی اور انسانی ذمہ داری کی بنیاد پر کیے گئے۔/

 

4372857

نظرات بینندگان
captcha