حضرت محمد(ص) قرآن سے عرفان تک «آنه‌ماری شیمل» کی کتاب میں

IQNA

10:14 - August 31, 2026
خبر کا کوڈ: 3520652
ایکنا رپورٹ؛

حضرت محمد(ص) قرآن سے عرفان تک «آنه‌ماری شیمل» کی کتاب میں

ایکنا: جرمن مستشرق اور خاتون ریسرچر آنے ماری شیمل نے اپنی کتاب ’’محمدؐ، رسولِ خدا‘‘ میں پیغمبر اسلامؐ کی شناخت کو صرف تاریخی سیرت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ قرآن، حدیث، ادب، عرفان اور مسلمانوں کی ثقافتی روایات میں آپؐ کی شخصیت کے عکس اور اثرات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

1

ایکنا نیوز- رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰؐ کے بارے میں لکھی گئی بے شمار تحریروں میں بعض آثار ایسے ہیں جو محض ایک تاریخی شخصیت کی زندگی بیان کرنے کے بجائے اس راز کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپؐ اپنے پیروکاروں کی یادداشت، ثقافت اور روحانیت میں کس طرح زندہ رہے۔ جرمن کی معروف اسلام شناس اور مستشرق آنے ماری شیمل کی کتاب "محمد رسولِ خدا" بھی اسی نوعیت کی تصنیف ہے۔ مصنفہ اس کتاب میں صرف رسولِ اکرمؐ کی ولادت، بعثت، ہجرت، جنگوں اور وفات کے واقعات بیان کرنے پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ ایک گہرے سوال کا جواب تلاش کرتی ہیں: حضرت محمدؐ مسلمانوں کے دل و ضمیر میں ’’رسولِ خدا‘‘، ’’رحمت للعالمین‘‘، ’’شفاعت کرنے والے‘‘، ’’اسوۂ حسنہ‘‘، ’’نور‘‘ اور ان کی دینی تاریخ کی محبوب ترین شخصیت کیسے بن گئے؟

.

حضرت محمد(ص) در کتاب «آنه‌ماری شیمل»؛ از قرآن تا عرفان

 

آج کے دور میں اس سوال کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ مغربی تاریخِ فکر میں پیغمبر اسلامؐ کی تصویر ہمیشہ یکساں نہیں رہی۔ علمی اور منصفانہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ صدیوں تک معاندانہ روایات، افسانہ سازی اور دقیانوسی تصورات بھی موجود رہے ہیں۔ شیمل نے مغربی علمی روایت سے جنم لیا، لیکن اسلام، بالخصوص تصوف، فارسی اور اردو ادب، تشیع، صوفیت اور پیغمبر اسلامؐ کی شخصیت کے بارے میں ان کی تحقیق نے انہیں اسلام کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے کی طرف متوجہ کیا۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے بھی اپنے تعارف میں شیمل کو ہندوستانی اور اسلامی ثقافت کے مطالعے کی نمایاں شخصیات میں شمار کیا ہے۔

 

هنوز آماده نیست.///// از قرآن تا عرفان؛ حضرت محمد(ص) در کتاب «آنه‌ماری شیمل»

رسولِ رحمتؐ کی ولادت باسعادت اور ہفتۂ وحدت کے موقع پر اس کتاب کا دوبارہ مطالعہ ہمیں پیغمبر اکرمؐ کو ایسے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو تاریخ، ایمان، ادب، عرفان اور مسلمانوں کے عملی و زندہ تجربے کے درمیان ایک پل قائم کرتا ہے۔

آنے ماری شیمل محض کتابوں اور کتب خانوں تک محدود اسلام شناس نہیں تھیں۔ اسلامی ثقافت کے مطالعے کے لیے ان کی لسانی صلاحیت غیر معمولی تھی۔ وہ عربی، فارسی، ترکی، اردو اور کئی دوسری زبانوں سے واقف تھیں اور عالمِ اسلام کو سمجھنے کے لیے مسلم اقوام کے ادبی اور عرفانی آثار سے استفادہ کرتی تھیں۔

شیمل ان مستشرقین میں سے نہیں تھیں جو اسلام کو صرف بیرونی نقطۂ نظر سے اور یورپی مذہبی و کلامی مناقشات کے تناظر میں مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ کوشش کرتی ہیں کہ مسلمانوں کی ثقافتی اور روحانی دنیا کے اندر داخل ہو کر اسے سمجھا جائے۔

حضرت محمد(ص) در کتاب «آنه‌ماری شیمل»؛ از قرآن تا عرفان

 

’’تاریخی محمدؐ‘‘ سے ’’مسلمانوں کی زندگی میں موجود محمدؐ‘‘ تک

لیکن کتاب ’’محمدؐ، رسولِ خدا‘‘ میں شیمل کا بنیادی سوال کچھ اور ہے: پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد مسلمانوں کے اجتماعی شعور میں آپؐ کی تصویر کے ساتھ کیا ہوا؟ یہی وہ اہم مقام ہے جہاں شیمل اس سوال کا جواب اسلامی ادب اور ثقافت کے وسیع ذخیرے میں تلاش کرتی ہیں۔

شیمل پوری کتاب ’’محمدؐ، رسولِ خدا‘‘ میں مسلمانوں کے عرفانی ادب اور شاعری پر خصوصی توجہ دیتی ہیں۔

 

حضرت محمد(ص) در کتاب «آنه‌ماری شیمل»؛ از قرآن تا عرفان

کتاب کا 'جشن میلادِ پیامبر" کے عنوان سے باب ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے اس تصنیف کے اہم ابواب میں شمار ہوتا ہے۔

اسلامی ثقافت میں میلادِ رسول اکرمؐ محض تاریخ کے کسی واقعے کی یاد نہیں ہے، بلکہ بہت سے مسلم معاشروں میں میلاد النبیؐ رسولِ خدا سے محبت کی تجدید اور اظہار کی ایک روحانی و مذہبی روایت بن چکا ہے۔

 

4372798

ٹیگس: محمد ، کتاب ، مسلمان
نظرات بینندگان
captcha