شهید رھبر قرآنی حوالے سے وحدت کے علمبردار تھے

IQNA

10:14 - August 31, 2026
خبر کا کوڈ: 3520653
لبنانی عالم :

شهید رھبر قرآنی حوالے سے وحدت کے علمبردار تھے

ایکنا: لبنان کے ممتاز عالمِ دین سید علی فضل اللہ نے تأکید کی: امام خامنہ ایؒ اسلامی وحدت کے بارے میں گہری سوچ رکھتے تھے اور قرآنی افکار کے تحت ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی وحدت کے قیام کی جدوجہد ایک فریضہ اور سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

1

لبنان کے ممتاز عالمِ دین اور بیروت کے سابق امامِ جمعہ سید علی فضل اللہ نے ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامی وحدت کی چالیسویں بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر، جو ایران میں عالمی اسمبلی برائے تقریبِ مذاہب اسلامی کی نگرانی میں "شہید امام، آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کی فکر میں اسلامی وحدت" کے عنوان سے منعقد ہوئی، کہا: شہید رہبر امام خامنہ ایؒ اسلامی وحدت کے بارے میں گہری نظر رکھتے تھے اور اسے محض ایک حکمتِ عملی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ قرآنی نقطۂ نظر کے تحت ان کا عقیدہ تھا کہ قرآنی تعلیمات اور احکامات پر توجہ دیے بغیر اسلامی وحدت کو قبول نہیں کیا جا سکتا، اور اس کے تحقق کے لیے کوشش کرنا ایک فریضہ اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی وحدت کے خلاف استعمال ہونے والا ایک ہتھیار کسی بھی مذہب کے مقدسات اور مذہبی شعائر کی توہین ہے۔ اسی لیے ان کا فتویٰ مذاہبِ اسلامی کے مقدسات اور مذہبی علامات کی بے حرمتی کو ناجائز قرار دینے پر زور دیتا تھا۔

بیروت کے سابق امامِ جمعہ نے مزید کہا: اسلامی وحدت ہر قسم کے فتنے اور فتنہ انگیزی کرنے والے عناصر کے مقابلے کا ایک ہتھیار ہے، اور جو شخص تفرقہ اور فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ درحقیقت اس ہتھیار کے خلاف اقدام کرتا ہے۔

انہوں نے اسلامی وحدت کی راہ میں موجود اہم داخلی اور خارجی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس سلسلے میں ایک اہم رکاوٹ یہ احساس ہے کہ ہر مذہب کے پیروکار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ متحد ہو گئے تو ان کے مذہبی شعائر کمزور ہو جائیں گے یا ان کی توہین ہوگی۔ لہٰذا اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے مسلسل یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلامی وحدت کا مطلب اپنے مذہب کو ترک کرنا یا مذہبی اصولوں اور شعائر کو فراموش کرنا نہیں، بلکہ مشترکہ اصولوں اور مشترکہ اعتقادات کی بنیاد پر اتحاد قائم کرنا ہے۔/

 

4372830

نظرات بینندگان
captcha