ایکنا: دو سو حفاظ و قرّاء نے بغداد اور غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی کیمپ میں مسجد عبادالرحمن میں منعقدہ " ایک نشست میں تلاوتِ قرآن" کی محفل میں شرکت کی۔
ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق دونوں مساجد میں شرکاء اس مقصد کے لیے جمع ہوئے کہ اسرائیل کی تباہ کن جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور غزہ کی پٹی میں بڑی تعداد میں مساجد کی تباہی کے باوجود قرآن کریم کا جو حصہ انہوں نے حفظ کیا ہے، اسے تلاوت کریں۔
حلقہ ہائے حفظِ قرآن کے منتظمین غزہ کے اس علاقے کے رہائشیوں کو درپیش انتہائی دشوار انسانی حالات کے باوجود باقی ماندہ مساجد اور نماز گاہوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
غزہ کی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے مطابق جنگ سے قبل موجود 1,275 مساجد میں سے اسرائیلی حکومت نے 1,050 مساجد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ مزید 191 مساجد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
قرآنی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز
حلقہ ہائے حفظِ قرآن کے ایک ذمہ دار ابراہیم الزعیم نے بتایا کہ اس خیراتی ادارے نے ستمبر 2025 میں، خیموں اور اسکولوں میں قرآن کے حلقے منعقد کرنے کے بعد، اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ سرگرمی تقریباً 10 طلبہ سے شروع ہوئی، جس کے بعد بتدریج طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حفظِ قرآن کے حلقوں کو قرآن مجید کے نسخوں کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث طلبہ پرانے اور پھٹے ہوئے نسخے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ اور ان کے خاندان انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ خیموں میں رہتے ہیں اور شدید گرمی اور بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، اس کے باوجود وہ قرآن سے وابستگی کی محافل میں شرکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
"ایک نشست میں تلاوتِ قرآن" کی یہ محفل ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب جنگ کے نتیجے میں غزہ کے باشندے شدید انسانی مشکلات سے دوچار ہیں، تاہم قرآن کی تعلیم دینے والے حلقوں کے منتظمین اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور بچوں و نوجوانوں کو قرآن حفظ کرنے اور اس کی تلاوت کی ترغیب دینے کے لیے کوشاں ہیں۔
انہوں نے ان نشستوں کے تسلسل کو جنگ کے باوجود فلسطینی معاشرے کی قرآن کی تعلیم سے وابستگی کا ثبوت قرار دیا۔/
4372843