فلپائن آسیان رکن ممالک میں حلال سرٹیفیکیشن کے لیے سرگرم

IQNA

10:15 - September 02, 2026
خبر کا کوڈ: 3520662

فلپائن آسیان رکن ممالک میں حلال سرٹیفیکیشن کے لیے سرگرم

ایکنا: فلپائن حلال سرٹیفیکیشن کے حوالے سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان مشترکہ معیارات اور قوانین وضع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

1

ایکنا نیوز-عرب نیوز کے مطابق فلپائن کی وزارتِ تجارت و صنعت کا کہنا ہے کہ ملک آسیان کے رکن ممالک کے درمیان حلال سرٹیفیکیشن کے مشترکہ معیارات قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کا مقصد مصنوعات کو ایک دوسرے کے ہاں باہمی طور پر تسلیم کرنے میں سہولت پیدا کرنا اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر مسلم ممالک کی منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔

آسیان کے 11 رکن ممالک میں سے انڈونیشیا، ملائیشیا اور برونائی تین مسلم اکثریتی ممالک ہیں، جہاں اس تنظیم کی مجموعی 68 کروڑ سے زائد آبادی میں سے تقریباً 45 فیصد افراد آباد ہیں۔

اگرچہ فلپائن ایک بڑی حد تک کیتھولک ملک ہے، تاہم وہاں مسلمانوں کی ایک قابلِ ذکر آبادی بھی موجود ہے، جو تقریباً 12 کروڑ کی مجموعی آبادی کا قریباً 10 فیصد بنتی ہے۔

فلپائن کی وزارتِ تجارت نے کہا کہ آسیان کے ممالک عمومی طور پر اسلامی قوانین کی بنیاد پر حلال کے یکساں بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہیں، تاہم سرٹیفیکیشن کے طریقۂ کار، منظوری کے تقاضوں، ادارہ جاتی انتظامات اور باہمی شناخت کے نظام مختلف ممالک میں الگ الگ ہیں۔

آسیان اس وقت خوراک کے لیے حلال سے متعلق ہم آہنگ رہنما اصول وضع کرنے اور باہمی شناخت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ خطے میں زیادہ ہم آہنگی پیدا ہو اور تجارتی سرگرمیوں میں سہولت حاصل ہو۔

وزارت نے مزید کہا کہ پورے آسیان خطے میں، خصوصاً غذائی مصنوعات کے حوالے سے، زیادہ ہم آہنگ حلال معیار متعارف ہونے سے ضوابط میں ہم آہنگی پیدا ہوگی، مطابقت کے اخراجات میں کمی، برآمد کنندگان کے لیے منڈی میں داخلے میں آسانی، صارفین کے اعتماد میں اضافہ اور آسیان کے اندر باہمی تجارت کے فروغ میں مدد ملے گی۔

عالمی حلال مارکیٹ، خصوصاً حلال خوراک کی مارکیٹ، تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ امریکی مشاورتی کمپنی دیناراستانڈرد (Dinar Standard) کی جانب سے جون میں جاری کی گئی اسٹیٹ آف دی گلوبل اسلامک اکانومی رپورٹ کے مطابق، 2024ء میں حلال خوراک پر صارفین کے اخراجات 1.53 ٹریلین ڈالر رہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ حلال خوراک کی عالمی مارکیٹ کی مالیت 2029ء تک 2.06 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

چونکہ فلپائن 2026ء میں آسیان کی گردشی صدارت سنبھال رہا ہے، اس لیے اس نے گزشتہ ماہ حلال خوراک سے متعلق آسیان کے ورکنگ گروپ کے اجلاس کی میزبانی کی، جس میں مشترکہ حلال معیارات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

فلپائن کی وزارتِ تجارت نے بتایا کہ آسیان کے رکن ممالک اس وقت حلال خوراک سے متعلق آسیان کے رہنما اصولوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کا مقصد پورے خطے میں زیادہ مربوط اور یکساں طریقۂ کار کو فروغ دینا ہے۔ فلپائن آسیان کے موجودہ طریقۂ کار کے ذریعے ان مباحث میں فعال طور پر حصہ لے رہا ہے، تاہم مستقبل میں کسی بھی انتظام یا معاہدے کا انحصار رکن ممالک کے اتفاقِ رائے پر ہوگا۔

حلال سرٹیفیکیشن میں دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے، کیونکہ کمپنیاں آسیان، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کے رکن ممالک میں موجود مسلم صارفین اور برآمدی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حلال مصنوعات میں دلچسپی اب غیر مسلم اکثریتی منڈیوں تک بھی پھیل رہی ہے۔ حلال مصنوعات کی تیاری کے عمل میں حفاظت اور صفائی کے سخت معیارات کی پابندی صحت کے حوالے سے حساس صارفین کے لیے بھی باعثِ کشش ہے۔ اسی وجہ سے حلال مصنوعات کو بتدریج اعلیٰ معیار، محفوظ اور صحت بخش مصنوعات کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔/

 

4373252

نظرات بینندگان
captcha