ایکنا: ملائیشیا میں عراقی سفارت خانے کے ناظم الامور نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ملائیشیاء کا ’’قرآن آور‘‘ پروگرام سال میں ایک مرتبہ منعقد ہونے کے بجائے ہر ماہ منعقد کیا جائے، تاکہ مسلمانوں کو قرآن کریم اور اس کی ہدایات کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کے لیے مزید مواقع میسر آ سکیں۔
ایکنا نیوز- سینار ڈیلی کے مطابق ملائیشیا میں جمہوریہ عراق کے سفارت خانے کے ناظم الامور حذیفہ زیاد محمود صالح نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام بہت اہم ہیں، کیونکہ قرآن کریم صرف عبادت کے لیے رہنمائی فراہم نہیں کرتا بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: میری امید ہے کہ یہ پروگرام سالانہ نہ ہو بلکہ ہر ماہ منعقد کیا جائے، کیونکہ قرآن کریم ایک وسیع کتاب ہے اور اس میں بہت سے احکام موجود ہیں۔
انہوں نے مسجد السلطان عبداللہ میں ’’ملائیشیا قرآن آور‘‘ پروگرام کے منتظمین سے ملاقات کے دوران کہا: ’’قرآن ہر معاملے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے؛ چاہے وہ عقل و دانش ہو، معیشت ہو یا روزمرہ زندگی۔ قرآن صرف عبادت یا نماز کے لیے نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سے متعلق مزید نشستیں اور پروگرام منعقد کیے جانے چاہییں، تاکہ عام لوگ زیادہ علم حاصل کر سکیں اور قرآن میں موجود ہدایات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
عراقی سفارت کار نے مزید کہا کہ ’’ملائیشیا قرآن آور‘‘ جیسے پروگرام عوام میں قرآن کریم کے فہم کو بڑھانے اور لوگوں کو اس کی تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’’میرے خیال میں ہمیں اس طرح کی بہت سی نشستوں اور تقریبات کی ضرورت ہے تاکہ لوگ قرآن کے بارے میں مزید جان سکیں۔‘‘
دوسری جانب، اس تقریب کی منتظمین میں سے ایک زیتون زاریا عبداللہ نے کہا کہ دینی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے کے لیے ضروری آگاہی مختلف طریقوں سے پیدا کی جا سکتی ہے، جن میں اس طرح کی تقریبات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا: ملایشیاء قرآن آور مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے کلام سے قریب ہونے کی ایک یاد دہانی بن سکتا ہے۔ زندگی میں ہم جو بھی کام کرتے ہیں، ہمیں رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کریم میں ہر معاملے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔
تقریب کی ایک اور منتظم مرہینی یوسف نے کہا: ہم اداروں کے لیے ’قرآن آور‘ پروگرام منعقد کرتے ہیں، جو ان کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ مالی معاملات، خاندانی معیشت اور معاشرے میں روحانی و نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام والدین اور بچوں کے رویوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم خاندانوں، تنظیموں اور سرکاری اداروں کی سطح پر قرآن کریم میں تدبر و غوروفکر کو فروغ دے رہے ہیں۔/
4373222