قطر کے شہر خور میں خواتین کے لیے حفظِ قرآن مرکز کا افتتاح

IQNA

10:25 - September 02, 2026
خبر کا کوڈ: 3520664

قطر کے شہر خور میں خواتین کے لیے حفظِ قرآن مرکز کا افتتاح

ایکنا: قطر کے شہر خور میں خواتین کے لیے جدید حفظِ قرآن مرکز کا افتتاح کیا گیا، جس کا نام "مریم بنت محمد بن عید المہندی" رکھا گیا ہے۔

1

ایکنا نیوز- الرایہ نیوز کے مطابق اس مرکز کا مقصد قرآن کریم کی تعلیم کو فروغ دینا، اسلامی اقدار کو معاشرے میں راسخ کرنا، آنے والی نسلوں میں قومی شناخت کو مضبوط بنانا اور شہر خور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں خواتین اور بچیوں کے لیے ایک خصوصی تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔

یہ مرکز مختلف عمر کے گروہوں اور تعلیمی سطحوں کے لیے قرآن کریم کے پروگرام اور حلقے منعقد کرے گا، تاکہ شرکاء اپنی مخصوص ضروریات اور صلاحیتوں کے مطابق مناسب تعلیمی پروگراموں سے استفادہ کر سکیں۔

مرکز کے پروگراموں میں حفظِ قرآن، دَور و مراجعت، تلاوت میں مہارت اور علمِ تجوید کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کے معانی میں تدبر اور قرآنی مفاہیم کو عملی زندگی اور روزمرہ کے رویوں سے جوڑنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

مرکز المہندی مختلف نوعیت کے قرآنی اور تعلیمی پروگراموں کو فروغ دینے اور قرآن کریم کی تعلیم کے لیے ماہر اور متخصص افراد کی خدمات حاصل کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرے گا۔

مرکز کی مدیر مریم بنت سعید المہندی نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد قرآن کریم کی تعلیم کو محض حفظ اور تلاوت تک محدود رکھنے کے بجائے شرکاء کے رویوں اور روزمرہ زندگی میں قرآنی اقدار کو راسخ کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ہم اس مرکز کو صرف حفظِ قرآن کی ایک جگہ نہیں سمجھتے، بلکہ ہم اسے ’قرآن کا گھر‘ بنانا چاہتے ہیں؛ ایسی جگہ جہاں ایک بچی قرآن سے محبت کے ساتھ پروان چڑھے، ایک نوجوان لڑکی قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرے اور خواتین زندگی کے مختلف مراحل میں کتابِ الٰہی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔

المہندی نے کہا: قرآن کریم کی تعلیم آیات حفظ کر لینے پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کا حقیقی اثر اس وقت شروع ہوتا ہے جب قرآن کے معانی اور اقدار انسان کی شخصیت، اس کے رویے اور طرزِ زندگی کا حصہ بن جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکز کی کوشش ہوگی کہ اعلیٰ معیار کے قرآنی اور تعلیمی پروگرام پیش کیے جائیں، جن کا مقصد تعلیم میں معیار و کمال، درست تربیت اور گہرا اثر پیدا کرنا ہو۔

المہندی نے زور دیتے ہوئے کہا: جب ہم کسی شخص کو قرآن سکھاتے ہیں تو ہم صرف اللہ کی کتاب کے ایک حافظ کی تربیت نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ہم ایک پوری نسل میں ایک قدر کو راسخ کر رہے ہوتے ہیں اور ایسا اثر پیدا کر رہے ہوتے ہیں جو پورے خاندان تک پھیل سکتا ہے۔/

 

3520663

نظرات بینندگان
captcha