پيغام پيغمبر٬٬ سيمينار كی اختتامی تقريب-

IQNA

پيغام پيغمبر٬٬ سيمينار كی اختتامی تقريب-

٫٫پيغام پيغمبر٬٬ سيمينار كی اختتامی تقريب گذشتہ روز عصر كے وقت خدام قرآن اور عاشقان قرآنی كی موجودگی میں قرآنی عجاﺋب گھر میں منعقد ہوئ
سماجی گروپ :ايران كی خبر رساں ايجنسی(ايكنا) كے مطابق اس تقريب كی ابتدا بين الاقوامی شہرت يافتہ قاری قرآن جناب نجاتی صاحب نے تلاوت كلام پاك سے كی ان كے بعد ٫٫احمد جسجد جامعی٬٬ جو قومی قرآن كريم عجاﺋب گھر كے چيرمين ہیں انہوں نے نيمہ شعبان كی مناسبت سے حضرت مہدی (عج) كے ميلاد مسعود كی مبارك باد پيش كرنے كے بعد فرمايا :كہ خداوند نے اپنی مخلوق كو بيش بہا نعمتیں دی ہیں اور چند معدود آيات میں خداوند كريم نے كچھ خاص نعمتوں كے عطا كرنے پر مومنين پر احسان كا ذكر كيا ہے (يعنی یہ نعمتیں دے كر میں نے تم پر احسان كيا)كہ ان نعمتوں میں سے ايك نعمت ٫٫بعثت پيغمبر٬٬ ہے كہ جس كی طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے انہوں نے مزيد كہا كہ خداوند عالم نے قرآن اور احاديث قدسی میں كسی مقام پر بھی احسان كا لفظ استعمال نہیں كيا سواۓ اس مقام پر جہاں رحمۃ للعالمين اور اس كے پيغام كو تمام عالم كے شامل ہونے كا ذكر آيا ہے كيونكہ پيغمبر اكرمۖ كی ذات كا عظيم مرتبہ بندوں پر صرف ايك نعمت سے كہیں بڑھ كر ہے-
عجاﺋب گھر كے منتظم نے مزيد كہا كہ اہل بيت ۜ كے ساتھ ايرانيوں كی موجودگی بھی موثر رہی ہے اور اس حوالے سے انہوں نے حضرت سلمان فارسی كا ذكر كيا جو اصحاب پيغمبر ۖ میں سے تھے اور ايرانيوں كے لیے انكو باعث افتخار ٹھہرايا چونكہ حضرت سلمان فارسی اپنے اخلاقی كمالات كی بنا پر رسولخدا كے اتنے قريبی ساتھيوں میں شمار ہوتے تھے كہ جب حضرت فاطمہۜ كی شادی مبارك انجام پائ تو اس ناقہ كی مہار رسولخداۖ نے حضرت سلمان فارسی كے ہاتھ میں تھمای اور پھر جب جناب زھراۜ كی تدفين كا مرحلہ آيا تب بھی حضرت علیۜ نے ان سے مدد لی –
انہوں نے مزيد كہا كہ سال پيغمبر اكرم ۖ میں ايسے سيميناروں كا منعقد ہونا یہ تمہيد بنے گا تاكہ ہم پيغمبرۖ كی شخضيت اور ان كے آفاقی پيغام كو روشناس كراسكیں كيونكہ یہ پيغام ايك طرف تو قرآنی بنيادوں پر استوار ہے اور دوسری طرف اہلبيتۜ عصمت وطہارت كی سيرت اس كی اساس ہے -
اس پروگرام كے دوسرے حصے میں جناب سيد مہدی فاطميان جو كہ حافظ قرآن اور بين الاقوامی قرآنی مقابلوں میں منصف رہ چكے ہیں انہوں نے خطاب كيا كہ جس میں حضرت مہدی (عج) كے شمايل اور انكے اخلاقی كمالات كو بيان كيا اور مزيد فرمايا كہ بعض ہمارے شعرا و ذاكرين حضرات خاندان رسالت كے شان میں ايسے شعر پيش كرتے ہیں جو حضرت مہدی (عج) اور دوسرے آﺋمہ ۜ كی شايان شان نہیں ہیں-
انہوں نے مزيد كہا كہ ہمیں چاہیے كہ ہم امام زمانہ (عج) كو حاضر و ناظر سمجھیں اور گناہ كے ارتكاب سے پرہيز كریں اور ہميشہ انكے ظہور كےلیے دعا گو رہیں كيونكہ انكے ظہور سے ہی تمام عالم كی سماجی مشكلات حل ہوسكتی ہیں-
اس سيمينار كے اختتام پر مختلف گروپس میں جيسے آرٹ ،فوٹو گرافی ،كتاب ،اور مقابلہ میں پوزيشن لينے والے حضرات كو ٫٫رسولخدا ۖ كا ھدیہ٬٬كے نام سے انعامات دۓ گۓ-