سماجی گروپ:فاطمہ آليا منتخب ممبر قومی اسمبلی نے ايران كی قرانی خبر رساں ايجنسی سے گفتگو كرتے ہوۓ كہا كہ موجودہ احاديث كے مطابق شجاعت اور عدالت كو امام زمانہ (عج) كی اخلاقی خصوصيات كے طور پر بيان كيا گيا ہے كہ وہ انہی كمالات كی بنا پر سماج سے ظلم اور ناانصافی كا خاتمہ كریں گے اور عادلانہ نظام كو معاشرہ میں راﺋج كریں گے-
انہوں نے مزيد كہا كہ امام زمانہ كا حقيقی منتظر بننے كےلیے ضروری ہے كہ بچپن سے ہی اس مفہوم انتظار كو دل و جان میں جگہ دی جاۓ –اور اس كے لیے سب سے پہلے والدين كی ذمہ داری ہے كہ وہ اس موضوع پر كام كریں كيونكہ والدين ہی بچے كی تربيت میں كليدی كردار ادا كرتے ہیں- والدين اپنی اولاد كے سامنے نظریہ مہدويت كو اشعار اور قصے كہانيوں كی شكل میں بيان كركے بچوں كے اذہان پر گهرا اثر چهوڑ سكتے ہیں اور بچوں كو یہ سمجھا سكتے ہیں كہ ہمارا معاشرہ ايك مصلح آخر الزمان كے انتظار میں ہے –
انہوں نے كہا كہ تمام اديان كے پيروكار اسی مصلح آخر الزمان كے انتظار كی بشارت ديتے ہیں اور یہی انتظار كا مفہوم ہے جو زندگی میں نشاط پيدا كرتا ہے اور انسان كو آﺋندہ كی بابت اميدوار كرتا ہے
انہوں نے مزيد كہا كہ احاديث كے مطابق ايران كے مسلمان اس مفہوم انتظار اور ظہور امام زمانہ(عج) كے لیے بنيادی كردار ادا كریں گے.