سياسی گروپ: ايران قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) سے گفتگو كرتے ہوۓ آيت اللہ سيد موسی شبيری زنجانی نے فرمايا: خواتين بھی مجلس خبرگان كا نمايندہ بن سكتیں ہیں۔ اسلام میں اس كی كوئ ممانعت نہیں هے-
انہوں نے مزيد فرمايا:اگر جمہوری اسلامی ايران كے آيين كے مطابق خواتين كا مجلس خبرگان كی نمايندہ بننے كے حوالے سے كوئ ممانعت موجود هو تو وه الگ بات هے وگرنہ اسلامی نقطہ نگاہ سے اس میں كوئ ممانعت نہیں ہے ۔
اس عظيم مرجع تقليد سے ايكنا كے خبر نگار نے جب انتخابات كے نۓ قانون میں جمہوری اسلامی ايران كے صدر كی شراﺋط میں سے ٫٫ سياسی اور مذہبی مرد ٬٬ كا لفظ ختم كردينے كے بارے میں سوال كيا تو انہوں نے فرمايا:
میں اپنی مختلف مصروفيات كی وجہ سے اس نۓ قانون كا مطالعہ نہیں كرسكا ليكن یہ نكتہ واضح اور آشكار ہے كہ كوئ بھی قانون جمہوری اسلامی كے دستوری ڈهانچے كے برخلاف نہیں ہوسكتا-