اسلام كے خلاف پاپ كے بيان پر احتجاج اور مزمت كا سلسلہ جاری
پاپ بنڈكٹ شانزدہم كے اسلام كے خلاف مبينہ بيان پر عالم اسلام میں احتجاج اور مزمت كا سلسلہ جاری ہے۔
پاكستان كی مذہبی جماعتوں كے رہنماؤں نے پاپ كے اس بيان كی مذمت كرتے ہوئے اس پر سخت احتجاج كيا ہے اور اسے مسيحی دنيا كے لئے افسوس اور شرمساری كا باعث قرار ديا ہے۔
ان مذہبی رہنماؤں كی اپيل پر كل نماز جمعہ كے بعد پاپ كے اس غير ذمہ دارانہ بيان كے خلاف احتجاجی مظاہرے كیے گئے اور اس بيان كی مذمت كرتے ہوئے ان سے مطالبہ كيا گيا كہ وہ عالم اسلام سے اپنے اس بيان پر معافی مانگیں۔
پاكستانی وزارت خارجہ نے بھی ايك بيان میں پاپ كے اس اسلام مخالف بيان كی مذمت كی ہے دریں اثنا سينٹ اور قومی اسمبلی نے بھی پاپ كے اسلام مخالف بيان كی مذمت كی ہے۔
ادھر ہندوستان میں قومی اقليتی كميشن نے كہا ہے كہ اسلام كے بارے میں كھتولك فرقے كے روحانی پيشوا پاپ بنڈكٹ شانزدہم كا بيان قرون وسطی میں صليبی جنگوں كی دعوت دينے كی مانند ہے۔
قومی اقليتی كميشن كے سربراہ حميد انصاری نے كہا ہے كہ پاپ نے ايسے الفاظ استعمال كیے ہیں جو انسان كو قرون وسطی میں صليبی جنگوں كے آغاز كا باعث بننے والے ان كے پيشرؤوں كے بيانات كی ياد دلاتے ہیں۔
نئی دہلی میں كل نماز جمعہ كے بعد مسلمانوں نے پاپ كے اس بيان كے خلاف احتجاجی مظاہرہ كيا اور اس كی شديدمذمت كی۔