ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے رساء سے نقل كيا ہے كہ حضرت آيت اللہ العظمی فاضل لنكرانی نے اسلامی الاﺋنس پارٹی كے سپريم كمیٹی اور اس كے صوبائ مندوبين سے ملاقات میں انكے بے داغ ماضی كی تعريف كرتے ہوۓ فرمايا كہ آپ لوگوں نے اسلامی انقلاب كی تشكيل میں بہت زحمات اٹھائ ہیں جو لاﺋق تحسين ہیں-
انہوں نے فرمايا كہ اسلامی انقلاب كی حمايت قرآن ،اسلام اور مكتب تشيع كی حمايت ہے اور حزب اللہ لبنان كے غيرتمند جوانوں كا قيام اس كا زندہ ثبوت ہے –اگرچہ دنيا كی باطل طاقتوں نے شيعيت كو كمزور كرنے اور اس كو صفحہ ہستی سے مٹانے كے لیے رات دن ايك كيا ہوا ہے اور بالخصوص اسلامی جمہوریہ ايران جو كہ شيعيت كا مركز ہے اس كے خلاف كمر بستہ جدوجہدهو رہی ہے -
انہوں نے اس روايت ٫٫فاما الحوادث الواقعہ فارجعوا فیہا الی رواۃ احاديثنا٬٬ كو ذكر كرتے ہوۓ فرمايا كہ شيعہ فقہ ، مراجع عظام اور فقہای امامیہ كی خدمات سے مستفيد ہونا لوگوں كی ذمہ داری ہے -اور شيعہ مكتب كا تحفظ كرنا ہم سب كی ذمہ داری بنتی ہے –
حضرت آيت اللہ العظمی فاضل لنكرانی نے مزيد فرمايا كہ موجودہ مشكلات كی وجہ سے لوگ مالی دباٶ میں ہیں- لہذا حكومتی اداروں كو چاہیے كہ انكی مشكلات كے لیے راہ حل نكالے اور معاشرہ كی اقتصادی صورتحال كو ٹھيك كرے چونكہ لوگوں كی خدمت كرنا ان كی ذمہ داری ہے تاكہ لوگوں كو معلوم ہوسكے كہ اسلامی حكومت انكی مشكلات حل كرسكتی ہے اور معاشرے كو چلانے كی بھر پور صلاحيت ركھتی ہے –
انہوں نے ملت كے اتحاد پر زور ديتے ہوۓ فرمايا كہ ہمیں خبردار رہنا چاہیے تاكہ كہیں دشمن ہماری صفوں میں گھس كر ہمارے جوانوں كو اسلامی انقلاب اور مكتب تشيع سے دور كرنے میں كامياب نہ ہو سكے
اس ملاقات كی ابتدا میں اسلامك الاﺋنس پارٹی كے جنرل سيكرٹری نے كاركردگی رپورٹ پيش كی