۔صدر مملكت جناب احمدی نژاد نے امريكی جريدے ٹائمز سے خصوصی انٹرويو میں ايران اور امريكہ كے تعلقات كے بارے میں كہا كہ امريكی حكومت كو اپنا رویّہ بدلنا ہوگا اور اسی صورت میں ہی تمام مشكلات حل ہوں گی ۔
اسلامی جمہوریۂ ايران كے صدر نے ٹائمز جريدے كے نامہ نگار كے اس سوال كے جواب میں كہ آپ امريكہ مردہ باد كے نعرے كی كيوں حمايت كرتے ہیں كہا كہ جب ايرانی عوام یہ نعرہ لگاتے ہیں تو اس كا مطلب یہ ہے كہ وہ امريكہ كی جارحيت اور غنڈہ گردی سے بيزار ہیں ايرانی عوام قوموں كے حقوق كی پائمالی اور تفريق و امتياز سے نفرت كرتے ہیں كيونكہ قومیں مشكلات ايجاد نہیں كرتیں اور امريكی عوام بھی صلح و دوستی اور حق و انصاف كی خواہاں ہیں ۔
صدر مملكت جناب احمدی نژاد نے اس سوال كے جواب میں كہ كيا ايران ایٹمی ہتھيار كو اپنا حق سمجھتا ہے كہاہے كہ ہم ایٹمی ہتھيار كے مخالف ہیں اور یہ سمجھتے ہیں كہ یہ ہتھيار انسانوں كی خدمت كے لئے نہیں بلكہ فقط انسانوں كے قتل عام كے لئے بنائے جاتے ہیں اور آج ایٹمی ہتھياروں كا كوئی اثر نہیں ہے ۔معاملات و مسائل بم حل ركھنے سے حل نہیں ہوتے بلكہ ہمیں منطق كی ضرورت ہے ۔
اسلامی جمہوریۂ ايران كے صدر نے مسئلۂ فلسطين كے بارے میں كہا كہ ايك پوری قوم كو اس كے گھر اور سرزمين سے نكال ديا گيا فلسطينی عوام اپنی ہی سرزمين میں ان لوگوں كے ہاتھوں مارے جارہے ہیں جنہوں نے فلسطينيوں كی سرزمين قبضہ كرركھا ہے ۔ہماری تجويز ہے كہ پچاس لاكھ بے گھر فلسطينيوں كو ان كی سرزمين میں واپس لوٹايا جائے اور پھر پورے فلسطين میں ايك عام ريفرنڈم كرايا جائے اور فلسطينی عوام اپنی حكومت كا خود انتخاب كریں یہی ہمہ گير اور جمہوری راستہ ہے ۔
صدر مملكت جناب احمدی نژاد نے ہولوكاسٹ كے بارے میں كہا كہ دوسری جنگ عظيم كے دوران چھ كروڑ افراد مارے گئے سبھی انسان تھے اور سب لائق احترام تھے ليكن صرف 60 لاكھ یہوديوں كو ہی اتنا اہم بناديا گيا ۔اگر چہ واقعہ پيش آيا تو یہ ايك تاريخی واقعہ ہے پھر كيوں اس بارے میں آزادانہ تحقيقات كی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر یہ فرض كرليا جائے كہ 60 لاكھ یہودی مارے گئے ہیں تو كہاں مارے گئے اور پھر فلسطينی عوام كا كيا تصور ہے ؟