تہران كی مركزی نماز جمعہ كے خطيب آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے آج نماز جمعہ كے خطبوں میں كہاكہ پوپ كے بيان پر مسلمانوں كے احتجاجی مظاہروں نے ثابت كرديا كہ اسلامی دنيا اپنے دفاع كے لئے تيار ہے۔
آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے كہا كہ اسلامی انقلاب كی كاميابی كےبعد مسلمانوں میں ايك نيا جذبہ پيدا ہوا ہے جس كے تحت وہ اسلام پر لگائے جانے والے ہر الزام كے جواب میں سخت ردعمل دكھاتے ہیں اور یہ اسلامی دنيا كے لئے ايك مبارك اور اميد افزا بات ہے۔
انہوں نے لبنان كے حالات كو حساس قرار ديا اور كہا كہ اسرائيل اسلامی مزاحمت كے مقابلے میں اپنی ناكامی پر پيچ وتاب كھارہا ہے اور اپنی شكست كی تلافی كی فكر میں ہے، بنابریں مسلمانوں كو اس غاصب حكومت كی سازشوں كی طرف سے ہوشيار رہنا چاہئے۔
آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے كہا كہ اسرائيل كے آقاؤں كو بھی چاہئے كہ اس كی جنگ افروزی كو روكیں كيونكہ اس كا نتيجہ بھی ان كے لئے شكست كے علاوہ اور كچھ نہیں ہوگا۔
تہران كی مركزی نماز جمعہ كے خطيب نے پرامن ایٹمی ٹكنالوجی كے حصول كو ايرانی قوم كا مسلمہ حق قرارديا اور كہا كہ ہم مسائل كے حل كے لئے مذاكرات پر يقين ركھتے ہیں ليكن يورينيم كی افزودگی معطل كرنے كی پيشگی شرط كے ساتھ مذاكرات بے معنی ہیں ۔
آيت اللہ ہاشمی رفسجانی نے عراق اور افغانستان كے حالات كے بارے میں كہا كہ علاقے میں امريكی افواج كی آمد كانتيجہ بے گناہ عوام كے قتل عام اور بدامنی كے علاوہ اور كچھ نہیں نكلا۔
http://urdu.irib.ir/sep4.htm#5