ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے ٫٫محيط ٬٬ نامی ساﺋیٹ سے نقل كيا ہے كہ پوپ بنڈيكٹ نے ویٹيكن كے ٫٫ سان پیٹرو٬٬ چوك میں ہزاروں كيتھولك عيساﺋيوں سے خطاب كرتے ہوۓ كہا كہ دين تشدد كے خلاف ہے اور عقل و دين ايك دوسرے كے لازم و ملزوم ہیں-
انہوں نے تمام اديان كے احترام بالخصوص اسلام كے احترام پر زور ديتے ہوۓ كہا ميرا اس خطاب سے ہدف تمام لوگوں كو ايك دينی گفتگو كی دعوت دينا ہے-
دوسری طرف انجمن اسلامی روم كے صدر عبد اللہ رضوان نے كہا كہ پوپ كے حالیہ خطاب كو عذر خواہی كے طور پر قبول كيا جاتا ہے اور چونكہ كيتھولك مذہب میں پوپ غلطی سے پاك ہوتا ہے لہذا ان كا باقاعده عذر خواہی كرنا انكے مقام اور شخصيت كو داغدار كرتا ہے –رضوان نے آخر میں روم میں بين الاقوامی كانفرنس كی خبر دی ہے كہ جس میں مسلم علما ،ویٹيكن كی شخصيات سے تبادلہ خيال كریں گے-