ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا)نے حوزہ علمیہ قم كے اخباری سينٹر سے نقل كيا ہے كہ قاﺋد ملت جعفریہ پاكستان علامہ سيد ساجد علی نقوی نے كربلا معلی میں پاكستانی زاﺋرين كی شہادت كے حوالے سے منعقدہ جلسے میں دسيوں ہزار مومنين كے اجتماع سے خطاب كرتے ہوۓ فرمايا: شيعہ اور سنی ملكر عالمی استكبار كے مقابلے میں كھڑے ہیں اور یہ بات سب پر عياں ہے كہ كربلا معلی كے زاﺋرين كی دلخراش شہادت كے پس پردہ مغربی ايجنسيوں كے آلہ كاروں كا ہاتھ ہے -انہوں نے كہا كہ پاكستانی شيعہ مہمان نہیں بلكہ اس ملك كے وارث اور اس ملت كا حصہ ہیں-
علامہ سيد ساجد نقوی نے گذشتہ سالوں میں پاكستان كے مختلف علاقوں میں ہونے والے شيعہ قتل عام كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ پاكستانی عوام كو وہ وقت ياد ہے جب اسكولوں ،دفاتر ،سڑكوں اور پاكستان كے گلی كوچوں میں كافر كافر شيعہ كافر كا نعرہ گونج رہا تھا اور پورا ملك نا امنی كی لپیٹ میں تھا اور شيعوں كو اس ملك سے حذف كرنے كے گہرے منصوبے بناۓ گۓ تھے ليكن امام زمانہ(ع) كی خاص عنايت اور خداوند كريم كی توفيق سے دشمن كے یہ سارے منصوبے ناكام اور نقش بر آب ہو كر رہ گۓ-
نماﺋندہ ولی فقیہ نے مزيد كہا كہ ہم ہميشہ امام خمينی اور ولی امر مسلمين آيت اللہ العظمی سيد علی خامنہ ای كے فرامين كی روشنی میں اتحاد بين المسلمين كے علمبردار رہے ہیں اور رہیں گے-
علامہ سيد ساجد نقوی نے دہشت گردوں كے ساتھ ہر قسم كے مذاكرات كے امكان كو رد كرتے ہوۓ كہا كہ حكومت پاكستان شيعوں پر دباٶ ڈال كر اور انكے راستے میں ركاوٹیں كھڑی كركے انہیں ان وھابی دہشتگردوں كے ساتھ مذاكرات كروانا چاہتی ہے جن كے ہاتھ ہزاروں شيعوں كے خون سے رنگين ہیں ليكن ہم كسی صورت میں بھی ان مذاكرات كو قبول نہیں كریں گے اگرچہ ہمیں اپنی جان كا نذرانہ ہی اس راہ اسلام میں ديناپڑے-
انہوں نے دہشت گردی كے خلاف حكومت پاكستان كے كمزور رویہ پر سخت اعتراض كرتے ہوۓ كہا :یہ حكومت كی ذمہ داری ہے كہ وہ اپنے شہريوں كی جان و مال كی حفاظت كرے ليكن افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ آج پورا ملك دہشت گردوں كے كنٹرول میں ہے اور لوگوں كی جان و مال محفوظ نہیں ہے -ہم حكومت سے مطالبہ كرتے ہیں كہ وہ ايك ايسی كمیٹی بناۓ جو شہدا راہ كربلا كے دلخراش واقعہ كی تحقيق كركے اس كے پس پردہ عناصر كو بے نقاب كرے –
قاﺋد ملت جعفریہ نے لبنان میں مجاہدين اسلام كی فتح پر خوشی كا اظہار كرتے ہوۓ فرمايا :كہ حزب اللہ كے مجاہدوں نے خلوص اور ايثار كے جذبے سے اپنی سرزمين كو اسراﺋيل كے ناپاك وجود سے خالی كروايا اور وہ ظلم اور بربريت كے مقابلے میں سيسہ پلائ ديوار ثابت ہوۓ-
ياد رہے كہ كچھ عرصہ پہلے شام سے عراق كی طرف آنے والے ۱۴ پاكستانی زاﺋرين دہشت گردوں كے ہاتھوں شہيد كردیۓ گۓ تھے-