تہران كے مركزی نماز جمعہ كے خطيب آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے فلسطينی عوام كے خلاف صہيونی حكومت كے جراﺋم كے امريكہ كی طرف سے حمايت كیے جانے كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ امريكہ اب تك صہيونی حكومت كے خلاف تيس قرار دادیں ویٹو كرچكا ہے-
انہوں نے كہا: اب تك اقوام متحدہ كی سلامتی كونسل میں ویٹو كی جانے والی پچاس فيصد قرار دادیں امريكہ سے تعلق ركھتی ہیں –جن میں سے اكثر صہيونی حكومت كے حق میں ویٹو كی گئی ہیں-
تہران كے مركزی نماز جمعہ كے خطيب آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے ایٹمی توانائی كی بين الاقوامی ايجنسی كے ساتھ ايران كے تعاون كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ ايران كے خلاف بدترين رپورٹوں میں بھی اس بات كا اعتراف كيا گيا ہے كہ ايران كی ایٹمی سرگرميوں میں پر امن راستے سے كسی انحراف كا مشاہدہ نہیں كيا گيا ہے-
تہران كی مركزی نماز جمعہ كے خطيب نے مزيد كہا كہ عالمی سامراج كو معلوم ہونا چاہیے كہ ايران كے خلاف كسی بھی اقدام سے خود انہیں اور علاقے كو نقصان پہنچے گا اور اسلامی جمہوریہ ايران پر امن ایٹمی توانائی سے استفادہ كے اپنے حق سے ھر گز دستبردار نہیں ہوگا-
اسراﺋيل كی لبنان سے شكست كا ذكر كرتے ہوۓ انہوں نے كہا: یہ مجاھدانہ دفاع ،مجاھدين كی آبرو مندی كا سبب بنا ہے اور اس سے اسراﺋيل كے زوال كا اشارہ ملتا ہے –انہوں نے جنگ لبنان كا ذكر كرتے ہوۓ كہا:اس جنگ میں اسراﺋيل نے ممنوعہ اسلحہ سے استفادہ كيا اور عام لوگوں اور ہسپتالوں پر حملات اسراﺋيل كے جنگی جراﺋم ہیں جن كا كيس جنگی جراﺋم كی بين الاقوامی عدالت میں جانا چاہیے-