ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ فاضل لنكرانی نے اپنے بيان میں كہا : پير كے دن غروب آفتاب كے بعد اگر دنيا كے كسی گوشے میں چاند دكھائی دے اور شرعی طريقے سے رويت ھلال ثابت ہوجاۓ اور وہاں كی رات سے دوسرے ممالك كی رات اگرچہ اس كا بعض حصہ ہی ملتا ہو تو وہاں چاند كے ثابت ہونے كے لیے یہ امر كافی ہے -آيت اللہ فاضل نے كہا: جس كے لیے یہ امر ثابت ہوگا تو منگل كے دن اس كے لیے ماہ شوال كی پہلی تاريخ ہوگی-
انہوں نے فطرانہ كی مقدار بيان كرتے ہوۓ مزيد فرمايا: بالغ ،عاقل،اور وہ جس كانان و نفقہ اس كے ذمہ ہو ، واجب ہے كہ ہر ايك كی طرف سے تين كلو گندم –يا كھجور –يا كشمش يا چاول دے يا اس كی قميت ادا كرے تين كلو گندم كی قيمت ايرانی كرنسی كے مطابق نو سو تومان ہے-