ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے تقريب المذاھب اسلامی كونسل سے نقل كيا ہے كہ تمام شيعہ و سنی عراقی علماء اور مراجع بالخصوص آيت اللہ سيستانی نے مكہ مكرمہ میں ہونے والے معاہدے كی حمايت كی ہے –
او –آئی- سی- كے ذمہ دار افراد نے عراق كی تمام شيعہ و سنی شخصيات كو اس معاہدہ كا مسودہ ارسال كيا اور پھر اس كے بارے میں علماۓ كرام اور مراجع تقليد جن میں آيت اللہ سيستانی ،آيت اللہ يعقوبی ،آيت اللہ بشير النجفی ،اور شيخ حارث الضاری شامل ہیں ان سب سے اس مسودہ كی تاﺋيد میں خطوط دريافت كیۓ-
آيت اللہ سيستانی نے اپنے خط میں تمام گروپوں كو اس معاھدہ كا پابند رہنے كی تلقين ،عراق میں ھر قسم كے قباﺋلی اختلاف كو رد كرتے ہوۓ موجودہ فضا كو ايك سياسی بحران سے تعبير كيا اور كہا كہ اس بحران كا راہ حل تمام شيعہ سنی گروپوں كے آپس میں مذاكرات كو قرار ديا –جس میں تمام گروپوں كے حقوق كو عادلانہ اور منصفانہ طور پر تسليم كيا جاۓ-