ادارہ شيعہ شناسی كے سربراہ: شيعہ شناسی كے موضوع پر ايران میں زيادہ تحقيقات نہیں ہوسكیں-

IQNA

ادارہ شيعہ شناسی كے سربراہ: شيعہ شناسی كے موضوع پر ايران میں زيادہ تحقيقات نہیں ہوسكیں-

سماجی گروپ: ايران كے اسلامی انقلاب نے دنيا كی توجہ مذھب شيعہ كی طرف مبذول كروائی ليكن اس ملك میں شيعہ شناسی كے موضوع پر زيادہ تحقيقات نہیں ہوسكیں-
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی(ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق شيعہ شناسی ادارہ كے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمين تقی زادہ داوری نے شيعہ معاشروں پر زيادہ سے زيادہ تحقيق كو ضروری سمجھا اور كہا: امريكہ اور يورپ میں اس مذھب كی پہچان كے لیے تحقيقی مراكز قاﺋم كیے گۓ ليكن خود ايران كے اندر ايسے اداروں كی تقويت نہ ہوسكی –اس خلا كو پر كرنے كےلیے پانچ سال سے شيعہ شناسی كے ادارہ كا قيام عمل میں آيا اور اس نے مختلف شيعہ گروہوں اور معاشروں پر تحقيقی كام شروع كيا –
انہوں نے حوزہ علمیہ قم میں تحقيقی امور كے فروغ كے لیے نشريات اور پرنٹ میڈيا كے بنيادی كردار پر زور ديا اور اسے معاشرہ كے لیے ضروری سمجھا اور اس حوالے سے ماھانہ جريدہ ٫٫اخبار شيعيان٬٬ جو شيعہ شناسی ادارہ كے زير نگرانی كام كررہا ہے اور ۲۵۰ ملين شيعہ جو دنيا كے مختلف ممالك میں مقيم ہیں انكی خبروں سے آگاہ كرتا ہے –اس كے علاوہ سہ ماہی جريدہ ٫٫شيعہ شناسی ٬٬ اور ٫٫بانوان شيعہ ٬٬ نامی جريدہ بھی اسی ادارے كے ديگر تحقيقی شاہكار ہیں-