آيت اللہ مكارم شيرازی :وہابيت دنياۓ اسلام پر بدنما داغ ہے-

IQNA

آيت اللہ مكارم شيرازی :وہابيت دنياۓ اسلام پر بدنما داغ ہے-

سياسی گروپ: آيت اللہ العظمی مكارم شيرازی نے اپنے فقہ كے درس خارج میں كہا كہ وہابيت دنياۓ اسلام پر ايك بدنما دھبہ ہے –
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے رسا سے نقل كيا ہے كہ آيت اللہ العظمی مكارم شيرازی نے آٹھ شوال المكرم كو انہدام جنت البقيع كے سانحے پر روشنی ڈالتے ہوۓ فرمايا كہ ويسے تو وہابی حضرات ھر جگہ توحيد اور شرك كا پرچار كرتے ہیں ليكن وہ نہ توحيد كے مفھوم سے واقف ہیں اور نہ ہی شرك كے مفہوم سے-
انہوں نے كہا كہ وہابی حضرات اپنے مقصد تك پہنچے كےلیے سورہ جن كی آيت نمبر ۱۸ اور سورہ يونس كی آيتوں كی غلط تفسير كرتے ہیں-
اس مرجع تقليد نے فرمايا كہ متعصب وہابی توسل،شفاعت ،زيارت قبور كو جاﺋز نہیں سمجھتے اور اسے شرك جانتے ہیں-
اور حيرت انگيز بات یہ ہے كہ ان كے راہنما مسلمانوں كو مشرك سمجھتے ہیں اور كہتے ہیں كہ ہمارے زمانے كے مشرك زمانہء جاھليت كے مشركين سے بد تر ہیں –
آيت اللہ مكارم شيرازی نے كہا كہ ھم قبور كی عبادت نہیں كرتے بلكہ ان كی زيارت كرتے ہیں اور پيغمبرۖ اور اﺋمہ معصومين علیھم السلام جو خدا كے نزديك بلند مرتبہ ركھتے ہیں ان سے توسل كرتے ہیں-
درس خارج كے استاد نے كہا كہ وہابيت طول تاريخ میں جبين اسلام پر بدنما داغ بنا رہی ہے-
لہذا ہمیں چاہیے كہ منطقی استدلال كے ذريعے اس فرقے كی اصليت كو اسلامی اور غير اسلامی معاشرے میں بيان كركے دنياۓ اسلام كی مشكل كو حل كریں-