بغداد میں پوليس كو 83 لاشیں ملیں ۔

IQNA

بغداد میں پوليس كو 83 لاشیں ملیں ۔

بين الاقوامی گروپ :بغداد میں پوليس كا كہنا ہے كہ اسے چھتيس گھنٹوں كے دوران شہر كے مختلف علاقوں سے 83 لاشیں ملی ہیں جن میں سے كچھ پر تشدد كے نشانات ہیں۔





ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نےبی بی سی اردو سے نقل كيا ہے كہ بغداد كی پوليس كو جمعرات اور جمعہ كی صبح كے درميان 56 لاشیں ملیں تھیں جبكہ جمعہ كے دن مزيد 27 لاشیں ملیں۔
نامہ نگاروں كا كہنا ہے كہ ان میں سے متعدد افراد فرقہ وارانہ تشدد كے شكار ہوئے جبكہ كچھ افراد كو تاوان كے لئے قبضے میں لينے والے گروہوں نے ہلاك كرديا۔
پوليس ليفٹننٹ محمد خيان نے خبررساں ادارے اے پی كو بتايا كہ جو 56 افراد ہلاك ہوئے ان میں سے تمام مرد تھے جن كی عمر بيس سے پينتاليس سال كے درميان تھی۔
یہ تمام افراد سويلين لباس میں تھے اور ان كے ہاتھ اور پير بندھے ہوئے تھے۔ ابھی ان افراد كی شناخت نہیں ہوئی ہے۔
دریں اثنا عراقی فوج نے تمام فوجيوں كو چھٹيوں سے واپس ڈيوٹی پر بلاليا ہے اور انہیں الرٹ ركھا گيا ہے۔ اس كی وجہ یہ ہے كہ اتوار كے روز صدام حسين كے مقدمے میں فيصلہ سنايا جانا ہے۔
اميد كی جارہی ہے كہ عراقی ہائی ٹريبيونل جو صدام حسين پر انسانيت كے خلاف جرائم كے الزامات كی سماعت كررہا ہے، اتوار كو اپنا فيصلہ سنائے گا۔
اس مقدمے میں صدام حسين اور ان كے ديگر ساتھيوں پر الزام ہے كہ انہوں نے دجيل نامی گاؤں میں شيعہ برادری كے 148 افراد كا اس لئے قتل كرديا كيوں كہ صدام حسين پر ايك قاتلانہ حملے كی كوشش كی گئی تھی۔