ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا)كی رپورٹ كے مطابق ڈاكٹر محمود احمدی نژاد نے ايشيائی پارليمانی ايسوسی ايشن برائے امن كے ساتویں اجلاس كو خطاب كر تے ہوئے كہا كہ اس وقت حكمرانوں كی ايك جماعت ايسی بھی ہے جو دوسری قوموں كے حقوق كو ضايع كر كے اپنی حكومت كی توسيع چاہتی ہے اور وہ اس مقصد كے حصول كے لئے حق كو چھپاتے اور باطل كی ترويج كرتے ہیں ـ
جناب احمدی نژاد نے كہا كہ میں سمجھتا ہوں كہ آج كی دنيا میں فلسطين كے مسئلہ سے زيادہ غمناك كوئی مسئلہ نہیں ہے ـ
عالمی طور پر مسئلہ فسلطين ظلم واستبداد كا مكمل مظہر ہےـ
اسلامی جمہوریہ ايران كے صدر نے كہا كہ اس وقت كليدی سوال یہ ہے كہ فلسطينی قوم ، اور خطے كے لوگ اس تاريخی ظلم و ستم پر كہاں جاكر پناہ لیں ـ كس سے اور كہاں جا كر اس ظلم و جبر كی شكايت كریں ـ
ڈآكٹر احمدی نژاد نے عراق كی صورت حالت پر روشنی ڈالتے ہوئے كہا كہ اس وقت عراق كے حالات ايسے ہیں كہ ايك عراقی جب گھر سے باہر جاتا ہے تو وہ سوچتاہے كہ معلوم نہیں رات كو زندہ واپس آؤں گا يا نہیں، یہ امريكہ اور انگلينڈ كی طرف سے عراقی عوام كو تحفہ ديا گيا ہے،
ايرانی صدر نےكہا كہ اس وقت امريكہ كو كون لگام دے سكتا ہے ممكن ہے كہ امريكہ نے جو عراق اور لبنان میں تشدد كيا ہے وہ وہی دنيا كے كسی اور ملك پر بھی كرسكتاہے ـ
(۱۰)