نماز جمعہ تھران كے خطيب: حجاج ہوشيار رہیں ،امريكہ ،شيعہ اور اھل سنت كے درميان تفرقہ ايجاد كرنا چاہتا ہے-

IQNA

نماز جمعہ تھران كے خطيب: حجاج ہوشيار رہیں ،امريكہ ،شيعہ اور اھل سنت كے درميان تفرقہ ايجاد كرنا چاہتا ہے-

سياسی گروپ: حجۃ الاسلام و المسلمين سيد احمد خاتمی نے ايام حج كی مناسبت سے ايرانی حجاج كو نصيحت كرتے ہوۓ كہا:شياطين كے ہتھكنڈوں سے ہوشيار رہیں كيونكہ امريكہ ،شيعہ اور سنيوں كے درميان اختلافات كو ہوا دينا چاہتا ہے-


ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے سياسی نامہ نگار كی رپورٹ كے مطابق حجۃ الاسلام و المسلمين سيد احمد خاتمی نے تہران كے اس ھفتہ كی نماز جمعہ كے پہلے خطبہ میں اسلام كے اخلاقی اصولوں كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا:شيطانی سازشوں سے ہوشيار اور بيدار رہنے سے انسان خدا اور قيادت سے غافل نہیں ہوتا اور خدا كی عبادت اور قيامت كے دن قران كی مدد كا باعث بنتا ہے-
نماز جمعہ تہران كے خطيب نے قيامت كی تنہائی اور اعمال كے انسان كی مدد كرنے كے بارے میں قرآن كی كچھ آيات كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا :امام صادق كے فرمان كے مطابق قلب سليم ،وہ قلب ہے كہ جب وہ ذات خدا كی ملاقات كرتا ہے تو اس كے دل میں خدا كی محبت كے علاوہ كوئی چيز نہ ہو-
حجۃ الاسلام و المسلمين خاتمی نے ايام انتخابات كے نزديك ہونے كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا :خبرگان يونين كونسلوں اور قومی اسمبلی كے ضمنی انتخابات میں ،تمام اميدواروں كے سپورٹروں كو چاہیے كہ اس بات كی طرف توجہ ركھیں كہ وہ كس كے لیے اپنے آپ كو خطرہ میں ڈال رہے ہیں-
انہوں نے نماز جمعہ كے دوسرے خطبہ میں امام رضا ۜ كے طوس كی طرف سفر كے اہداف كو بيان كرتے ہوۓ كہا: مامون امام رضا كو طوس دعوت دے كر اپنے كچھ منحوس اھداف كو حاصل كرنا چاہتا تھا ليكن امام ۜ نے اس بحران سے استفادہ كرتے ہوۓ ولايت شيعہ كو بيان كيا-
تہران كے اس ہفتہ كے خطيب نماز جمعہ نے خبرگان اور يونين كونسلوں كے انتخابات كی انتخابی مہم كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا :خبرگان كے قابل احترام اميدواروں سے اميد كی جاتی ہے كہ وہ قانونی طريقے سے اس مہم كو چلاﺋیں اور اپنے حاميوں كو بھی ايسے ہی كردار و رفتار كی دعوت دیں –
خطيب نماز جمعہ نے آيت اللہ مدرس كی شہادت اور پارليمنٹ كے دن كی مناسبت سے كہا :آيت اللہ مدرس كی شخصيت كے بارے میں بہت ساری كتابیں موجود ہیں ليكن ان كی اہم ترين خصوصيت ،ظلم وستم كے خلاف ڈٹ جانا ہے-
انہوں نے مزيد كہا:مرحوم مدرس اپنی اعلی بصيرت كے ساتھ اسلام كی حاكميت كا اعتقاد ركھتے تھے اور وہ اس بات كی تاكيد كرتے تھے كہ اسلام تمام مساﺋل كا جواب دينے كی صلاحيت ركھتا ہے –
خطيب نماز جمعہ تہران نے كہا: مدرس عقيدہ ركھتے تھے كہ خدا پر توكل اور لوگوں كی حمايت كے ساتھ قدرت كے اعلی مقام پر پہنچا جا سكتا ہے اور اسلام كی كاميابی اور فتح كی خاطر آزار و اذيتیں تحمل كی جاسكتی ہیں اور آخر كار وہ اسی نظریہ كے تحت شہادت كے بلند مقام پر فاﺋز ہوگۓ-
انہوں نے پارليمنٹ كے نمايندوں كی اكثريت كو ارزشمند عادل ،سياسی اور مختلف ميدان میں محنتی ،دوستوں كے لیے اطيمنان اور دشمنوں كے لیے ناراضگی كا باعث قرار ديتے ہوۓ كہا:ساتویں اسمبلی كے نمايندوں سے اميد كی جاتی ہے كہ اسمبلی میں وہ باقيماندہ دو سالوں میں پہلے كی طرح رہیں كہ جس طرح امام رہ اور مقام معظم رھبری خواہشمند ہیں
انہوں نے غير ملكی حالات كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا:ہم آۓ دن عراق میں قتل عام كا مشاہدہ كر رہے ہیں اور اس ملك میں بد امنی اپنے عروج پر ہے جو امريكہ كی غلط سياست كا نتيجہ ہے –امريكہ یہ بد امنی ايجاد كركے اپنی روزی كمانا چاہتا ہے یہ غلط سياست اس حد تك پہنچ چكی ہے كہ بش اس ملك میں آنے كی جرأت نہیں ركھتا-
خطيب نماز جمعہ نے ،عراقی صدر جلال طالبانی كے ساتھ مقام معظم رھبری كی ملاقات كے دوران ،ان كے فرامين كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا:مقام معظم رھبری نے فرمايا:اگر عراق امن و امان كے لیے ايران سے مدد كا تقاضا كرے تو عراق میں امن و امان اور صلح قاﺋم كرنے كے لیے ايران اپنی تمام تر كوششیں بروۓ كار لاۓ گااور یہ كام علاقہ كے تمام ممالك كے لیے فايدہ مند ہے در حالانكہ امريكہ اپنے غلط پروپيگنڈے كے ذريعے ايران كو اختلافات اور بد امنی كے سرچشمہ كے طور پر ياد كرتا ہے-
انہوں نے وضاحت كی :امريكی اگر اپنے سچے خواب كی تعبير كے پيچھے ہیں تو ان كو سب سے پہلا كام یہ كرنا چاہیے كہ جتنی جلدی ہو سكے عراق سے نكل جاﺋیں اور اپنی حماقت كی وجہ سے جو دلدل بنائی ہے اس سے باہر آجاﺋیں –
انہوں نے ايام حج كی مناسبت سے ايرانی حجاج كو نصيحت كی كہ شيطانی ہتھكنڈوں سے ہوشيار رہیں كہ امريكہ ،شيعہ اور سنی كے درميان تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے –
حجۃ الاسلام و المسلمين خاتمی نے صدر احمدی نژاد كے امريكی عوام كو خط كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا :پوری دنيا میں جہاں بھی قدم ركھا جاتا ہے بش كے ظلم و تجاوز كو ديكھا جاتا ہے-
انہوں نےمزيد كہا:یہ خط منصف مزاج لوگوں كے لیے ہے كہ كب تك ظلم و ستم كو تحمل كرو گے؟یہ ذلت اور خواری ہے كہ تم پر ايك ايسی حكومت مسلط ہے جو صہيونيوں كی بد ترين دھشتگردی كی حمايت كرتی ہے –
انہوں نے حكومت فلسطين كی كاميابی اور اسراﺋيل كے خلاف ملت كی پايداری كا ثمرہ ظاہر ہونے اور ان كے غزہ كے علاقہ سے نكلنے كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا :قومیں فقط پايداری اور استقامت كی وجہ سے كامياب ہوتی ہیں-