ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ صافی گلپاﺋيگانی نے صوبہ قم كے بينك صادرات كے عہدے داروں سے ملاقات میں كہا كہ پروردگار كی طرف سے ہم سب پر بڑی ذمہ دارياں ہیں اور ہمیں ان ذمہ داريوں پر عمل كرنا چاہیے اور انسان كی زندگی كا بہترين مسألہ یہ ہے كہ وہ خدا كی بندگی اور اس كی اطاعت سے خارج نہ ہو –
انہوں نے مزيد امام موسی كاظم كی حديث كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ مزيد كہا كہ اگر انسان واقعی بندہ پروردگار ہو تو اس كی زندگی اسلامی آﺋين كے خلاف نہیں ہونی چاہیے ،بلكہ اسے چاہیے كہ پروردگار كی بے شمار نعمتوں پر شكر ادا كركے اپنے كمال اور بصيرت كے موقع فراہم كرلے-
مرجع تقليد نے دنيوی عہدے اور منصب كو بے معنی قرار ديتے ہوۓ كہا كہ كسی كو بھی ياد خدا سے غافل نہیں رہنا چاہیے اس لۓ كہ روايات اھلبيتۜ میں وارد ہوا ہے جب لوگ خدا سے غافل ہوں اور ايسے عالم میں كوئی پروردگار كو ياد ركھتا ہے تو خداوند عالم اس كے لیے ہزار نيكياں لكھتا ہے-
آيت اللہ صافی نے كہا كہ روايات میں وارد ہوا ہے كہ اگر كوئی مومن بھائی كی حاجت روائی كرے تو اسے متعدد حجوں كا ثواب ملے گا –آج كل ہم لوگ حج كے ايام میں اس طرح لوگوں كی حاجت روائی كر كے حجوں كا ثواب حاصل كرسكتے ہیں-