ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق اس نشست میں مفسر قرآن محترمہ امروزی نے سورہ اعراف كی آيت نمبر ۲۶ كو موضوع سخن قرار ديتے ہوۓ كہا كہ بے پردگی تقوی كے ساتھ ساز گار نہیں ہے –بے پردہ خواتين كو یہ كہنے كا حق نہیں ہے كہ ہم صاحب تقوی ہیں-
انہوں نے مزيد كہا كہ جو خواتين یہ كہتی ہوئی نظر آتی ہیں كہ ہم بغير پردے كے بھی ديندار رہ سكتی ہیں –انہیں چاہیے كہ اسلام كی شان كے مطابق پردہ كریں-
محترمہ امروزی نے كہا كہ خواتين اپنے ظاہری پردے كے ساتھ اپنی رفتار و گفتار پر خاص توجہ دیں –
مفسر قرآن نے كہا كہ پردہ خواتين كو عزت بخشتا ہے-
انہوں نے حضرت فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا سے نقل كردہ حديث بيان كی جس میں معصومہ عالم نے فرمايا كہ بہترين خاتون وہ ہے جسے كوئی مرد نہ ديكھے اور وہ بھی كسی مرد كو نہ ديكھے-
محترمہ امروزی نے اس حديث كے ذيل میں كہا كہ اس كے معانی یہ نہیں ہیں كہ عورتیں اجتماع میں شريك نہ ہوں اور ثقافتی كاركردگی انجام نہ دیں بلكہ حديث كے معانی یہ ہیں كہ خواتين پردے اور اپنی نگاہوں پر كنٹرول كے ساتھ اپنی كاركردگی جاری ركھیں-