ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق اسلامی اسمبلی كے اسپيكر غلام علی حداد عادل نے پارليمنٹ كے اجلاس میں عراق كے شہر اربيل میں ايران كے سفارت كاروں كی گرفتاری كے لیے امريكی فوجيوں كے اقدام طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا:ہم تعجب اور افسوس پر مبنی اس اقدام كی مذمت كرتے ہیں خصوصا اس لحاظ سے كہ امريكی وزير خارجہ رائس نے اعلان كيا كہ یہ اقدام فقط امريكی صدر كے حكم سے تھا-
انہوں نے مزيد كہا :یہ اقدامات عراق میں موجود امريكيوں كی شكست اور بوكھلاہٹ كی عكاسی كرتے ہیں اور یہ عبرت كا مقام ہے كہ جس حكومت نے صدام كے وسيع پيمانے پر تباہی پھيلانے والے ہتھياروں كے خطرہ سے دنيا كو نجات دينے كے بہانے عراق پر حملہ كيا آج اس كی نوبت یہاں تك پہنچ چكی ہے كہ اس كے فوجی سفارتخانہ پر حملہ كر رہے ہیں كہ جس كی حفاظت بين الاقوامی اصولوں كے تحت لازمی ہے-
اسپيكر نے وضاحت كی :ان اقدامات كی وجہ سے امريكہ كو كوئی افتخار حاصل نہیں ہوا بلكہ امريكی عوام كا سر شرمندگی سے جھك جاۓ گا اور بش جو كہ آج عراق میں اپنے اقدامات پر پشيمانی كا اظہار كر رہا ہے كل مجبورا وہ اپنے اس اقدام كے غلط ہونے كا اعتراف كرے گا-
حداد عادل نے ۲۵ دی ،۱۵ جنوری كو خاندان كے دن كی مناسبت سے خاندان كی بنياد كو محكم كرنے اور ریٹائر افراد كی مشكلات حل كرنے كے لیے اسمبلی كی كوششوں كو بيان كيا-
اسپيكر نے آخر میں حجت الاسلام دوانی كی وفات پر تعزيت كرتے ہوۓ مزيد كہا:اس قابل احترام دانشور نے مختلف موضوعات بالخصوص تاريخ كے بارے میں ۱۱۰ جلدوں پر مشتمل كتابیں تاليف كر كے دينی معارف كی بہت خدمت كی ہے-