سياسی گروپ: ايران میں اسلامی انقلاب كی كاميابی كے بعد امريكہ نے اس انقلاب كو شيعہ انقلاب كے طور پر متعارف كراونا شروع كيا جبكہ ہمارا انقلاب ،اسلامی اور قرآنی ہے اور ہمارا فخر بھی یہی ہے كہ ہم نے اسلامی اقدار ،توحيد ،احكام الہی اور اسلام كی معنوی اقدار كا پرچم سر بلند كيا ہے اور اس مہم میں كامياب بھی رہے ہیں-
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق قائد انقلاب اسلامی ايران نے ابن ميثم بحرانی سيمينار كے شركاء سنی اور شيعہ علماء سے خطاب كرتے ہوۓ فرمايا كہ عالم اسلام كا اتحاد وہ عظيم ہدف ہے جس تك رسائی ممكن ہے اور علماء كو چاہیے كہ وہ اپنی اس خطير ذمہ داری كو بخوبی انجام دیں-
انہوں نے علماء كو ہوشيار رہنے اور دشمنوں كی سازشوں سے چوكنا رہنے كی تلقين كی اور اسلامی ممالك كے درميان باهمی ارتباط كو ، دنياۓ اسلام كو وحدت كی طرف لے جانے میں بہترين قدم قرار ديا ہے اگر یہ وحدت حاصل ہو جاۓ تو اسلامی ممالك مضبوط بن سكتے ہیں اور پھر امريكہ اور برطانیہ كی گود میں پناہ لينے پر مجبور بھی نہیں ہونگے-
انہوں نے مختلف فرقوں كے درميان اختلاف كو ايك طبيعی امر كہا اور فرمايا كہ موجودہ دور میں استعماری طاقتیں ،جہالت ، تعصبات اور كج فہمی سے زيادہ سے زيادہ استفادہ كر كے اختلافات كو مسلمانوں كے درميان ہوا دے رہی ہیں اور ايران میں انقلاب كی كاميابی كے بعد اس كام میں شدت آئی ہے-
انہوں نے برطانیہ كو مسلمانوں كے درميان اختلاف ايجاد كرنے میں ماہر كہا اور فرمايا اگر انقلاب اسلامی ايران دنياۓ اسلام ، فلسطين ،افغانستان ،لبنان اور جو مسلمان بھی اسلام كی خاطر قيام كررهے هیں اس كی حمايت اور دفاع نہ كرے تو دشمنان اسلام كو ايران سے كوئی كام نہیں ليكن یہ سب دشمنی اس لیے ہمارے ساتھ روا ركھی جا رہی ہے كيونكہ انقلاب اسلامی ايران نے مسلمانوں كے اندر ايك نئی روح پھونك دی ہے جس سے اسلامی اقوام میں بيداری كی لہر دوڑ گئی ہے-