ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے حضرت آيت اللہ خامنہ ای كی تاليفات كی سائٹ سے نقل كيا ہے كہ اس معنوی اور حسينی پروگرام میں صدر مملكت محمود احمدی نژاد ٫چيف جسٹس سيد محمود ھاشمی شاہرودی ٫قومی سلامتی كونسل كے سيكرٹری علی لاريجانی ٫نائب صدر پرويز داودی ٫سيد حسن خمينی ٫بعض وزرا اور دوسرے عہدہ داروں كے علاوہ عوام كی ايك بہت بڑی تعداد نے شركت كی-
اس پروگرام میں حسين انصاريان نے اپنے خطاب میں كہا كہ كربلا كا واقعہ پانچ اصولوں پر قائم ہے اور ان میں سے ايك معرفت ہے اور كہا كہ كربلا كے شہدا عالم باللہ تھے اور خدا كی معرفت ان كے جسم و جان میں رچی ہوئی تھی-
انہوں نے كہا كہ امام حسينۜ اور ان كے اصحاب معرفت خدا میں غرق تھے كيونكہ وہ دنيا شناس ٫زمانہ شناس ٫دشمن شناس ٫خود شناس ٫فرصت شناس ٫پيغمبر شناس ٫اور امام شناس تھے-
انصاريان نے اپنی تقرير میں مزيد فرمايا كہ دين كے ساتھ عشق ومحبت ذمہ داری اورپروردگار كے ساتھ عشق اور محبت كربلا كے واقعہ كی ايك اور اصل ہے اور انہوں نے كہا كہ ذمہ داری كے انجام دينے میں شہداۓ كربلا كے لیے كوئی چيز ركاوٹ نہیں بنی
انہوں نے مزيد كہا:كربلا ايك مثبت ہمت اور كوشش كا نتيجہ ہے اسی طرح كربلا خداوند كريم كی راہ میں برائيوں ٫ظلم و فساد اور گناہ كے ساتھ مقابلہ كرنے كا جہاد ہے-