ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حجة الاسلام سيد احمد خاتمی امام جمعہ تہران نے نماز جمعہ كے خطبوں میں نجف اشرف كے حالیہ واقعہ اور اس میں مارے جانے والے ۳۰۰ دھشتگردوں كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ استعمار اور ان كے مزدور چاہتے تھے كہ زايرين ٫عزاداران امام حسين ۜ اور علماء كو قتل كریں ليكن نوری مالكی كی حكومت نے ان كی سازش كو بے نقاب كيا اور بہت سارے دھشت گردوں كو گرفتار كر ليا ہے-
انہوں نے امريكہ كی طرف سے لگاۓ گۓ اس الزام پر كہ ايران عراق كے داخلی امور میں مداخلت كر رہا ہے ٫كہا كہ ايران اور عراق كے درميان اسلام سے پہلے اور بعد از اسلام اچھے تعلقات رہے ہیں اور ہم عراق كی سلامتی كو اپنی سلامتی سمجھتے ہیں-
انہوں نے عراق میں حالیہ شيعہ قتل عام كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا:عراق میں كئی سو شيعہ پہلے عشرہ میں عزاداری سيد الشہدا كے جرم میں مارے جاتے ہیں اور مغربی اور عربی میڈيا كا كہنا ہے كہ شيعہ علماء نے سنيوں كے قتل كا فتوی صادر كيا ہے جبكہ ايك شيعہ عالم نے بھی ايسا فتوی نہیں ديا ہے اور اس كے برعكس ۳۸ سعودی عرب كے درباری ملاٶں نے شيعوں كے خلاف فتوی ديا ہے –
انہوں نے اسلامی انقلاب كی سالگرہ كی مناسبت سے كہاكہ ہمارا انقلاب تحريك عاشورا كا تسلسل ہے اور ۲۸ سال اس كا قيام اس تحريك كا ثمرہ ہے-
اور اس انقلاب كا نام امام خمينی كے نام سے مخلوط ہے اور اس عظيم رہبر كا تمام مسلم اقوام كی گردن پر حق ہے بالخصوص ايرانی قوم پر كہ انہوں نے آزادی ٫استقلال اور كئی دوسرے حقوق دنيا كو سكھاۓ –
انہوں نے مزيد كہا كہ یہ انقلاب خداوند كا تحفہ اور عظيم نعمت الہی ہے اور نعمتیں شكر سے باقی رہتی ہیں اور كفران نعمت سے نعمتیں چھن جاتی ہیں لہذا ہماری كوشس ہونی چاہیے كہ ہم انقلاب كی دينی اور روحانی فضا كو عام كریں اور انقلاب كی كاميابی كا راز وحدت میں تھا اور وحدت نعروں سے حاصل نہیں ہوتی بلكہ تحمل اور احترام متقابل سے اس تك پہنچا جا سكتا ہے